ترکیہ کی پولیس نے ایک غیر ملکی کو گرفتار کیا ہے جس پر شبہ ہوا ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ' موساد ' کے لیے کام کرتاہے۔ اور موساد کے کاموں کے لیے رقوم کی منتقلی میں رابطہ کاری اور سہولت کاری کرتا ہے۔ یہ بات ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ' انادولو'نے رپورٹ کی ہے۔
رپورٹ میں ' بتایا گیا ہے کہ مشتبہ شخص کا نام لیری ڈون ریگزیپی 'ہے اور وہ 25 اگست کو کوسوو سے ترکیہ پہنچا تھا۔ تاہم اسے جمعہ کے روز باقاعدہ قانون کی گرفت میں لے لیا گیا ہے۔
خبری رپورٹ کے مطابق اس شخص نے اس جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ادارے کے لیے رقوم کی منتقلی کا کام کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز اسے ابتدائی حراست میں لے لیا گیا تھا اور زیر تفتیش رکھا گیا تھا۔
یاد رہے جنوری سے ترکیہ کے حکام نے درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے جو ' موساد' کے لیے کام کرتے تھے۔ ان میں وہ بھی شامل تھے جو ترکیہ میں موجود فلسطینی شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کر کے ' موساد ' کو دیتے تھے تاہم اسرائیل نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
جب سے غزہ میں اسرائیلی جنگ جاری ہے ہے ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن مسلسل فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف اپنا موقف رکھے ہوئے ہیں۔ ترکیہ سرکاری طور پر حماس اور فلسطینی کے تمام مزاحمت کاروں کی جدو جہد کو جائز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقوق کے مطابق سمجھتا ہے۔جبکہ اسرائیل کو قابض اور فلسطینیون کی نسل کشی کا مرتکب جنگی جرائم میں ملوث ملک قرار دیتا ہے۔