یروشلم :غزہ میں ہلاک شدہ یرغمالی کی آخری رسومات میں ہزاروں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یروشلم میں پیر کے روز ہزاروں اسرائیلیوں نے امریکی اسرائیلی یرغمالی ہیرش گولڈبرگ پولین کی آخری رسومات میں شرکت کی ہے۔ اس یرغمالی کی ہلاکت دیگر پانچ یرغمالیوں کے ساتھ ہوئی اور ان کی لاشیں اسرائیلی فوج غزہ سے واپس لائی۔

حماس کا کہنا ہے کہ ان چھ یرغمالیوں کو اسرائیلی فوج نے خود ہلاک کیا ہے اس سے پہلے بھی اسرائیلی فوج کئی یرغمالیوں کو اپنی فائرنگ یا بمباری سے ہلاک کر چکی ہے۔ تاہم ان چھ یرغمالیوں کی ہلاکت سے اسرائیل میں کافی رنج وغم کی صورت حال ہے ۔ جس کا رد عمل ایک ملک گیر ہڑتال کی صورت میں بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس سے قبل پانچ لاکھ اسرائیلی سڑکوں پر نکلے۔

ساٹھ سالہ استاد ' امنن سادووسکی ' نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز' سے کہا ہمیں بغیر امتیاز کے تمام لوگوں کے لیے انسانیت کی ضرورت ہے، یہودیوں اور عربوں کے لیے اس کی یکساں ضرورت ہے۔'

ہلاک ہونے والا 23 سالہ 'گولڈ برگ پولین' سات سال کی عمر میں کیلیفورنیا سے اسرائیل ہجرت کر کے آیا تھا اور سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں نووا میوزک فیسٹیول میں اپنی سالگرہ منا رہا تھا جب حماس کےعسکری ونگ نے حملہ کیا اسی حملے میں برگ کے بازو کا نچلا حصہ ضائع ہو گیا تھا۔

ایک ویڈیو میں دوسرے یرغمالیوں کے ساتھ اسے ایک پک اپ وین میں ڈالتے ہوئے دکھایا گیا، اس موقع پراس کی چوٹ صاف دکھائی دے رہی تھی۔

اس ہلاک یرغمالی کو آخری بار اپریل میں جاری حماس کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا، جس میں اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اپنے اہل خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے عوام کے سامنے اپنی زندگی کا پہلا اظہار تھا کہ وہ اپنے زخموں سے بچ گیا تھا۔ مگر اب اسے زندہ واپس لانے کے لیے کوشش کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں