اسرائیلی حکومت کو ایک نئی وارننگ میں حماس نے خبردار کیا ہے کہ زندہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کا انحصار غزہ کی پٹی پر جنگ روکنے پر ہے۔
حماس نے بدھ کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں زور دیا ہے کہ اگر جنگ بند ہوتی ہے تو قیدی زندہ واپس آجائیں گے۔
نئے تابوت
حماس نے کہا کہ "اگر جارحیت جاری رہی تو ان قیدیوں کا انجام نامعلوم رہے گا"۔
اس کے علاوہ حماس نے کہا کہ "ہر روزاسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جس طرح کے کام کررہے ہیں تو اس کا مطلب ایک نیا تابوت ہو سکتا ہے"۔ حماس اپنے زیر حراست اسرائیلیوں کے قتل کا حوالہ دے رہی تھی۔
🔻حماس تنشر فيديو بعنوان "يتوقف العدوان يعود الأسرى أحياءً" pic.twitter.com/VuBssxhgiO
— #القدس_ينتفض 🇵🇸 (@MyPalestine0) September 4, 2024
یہ انتباہ سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں قید 6 قیدیوں کے قتل کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے حماس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے انہیں سر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔
یہ واقعہ ثالثوں کے ذریعے جاری جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بھی ہوا۔ ان قیدیوں کے قتل کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب نیتن یاہونے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر 14.5 کلومیٹر لمبی پٹی فلاڈیلفیا کوریڈور سے دستبردار نہ ہونے پراصرار کیا تھا۔
بعض اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کے دوسرے مرحلے میں اس راہداری سے بتدریج دستبرداری پر راضی ہو سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے موقف نے غصے کو جنم دیا اور اسرائیل کے اندر مظاہروں کی لہر دوڑ گئی جو چوتھے روز بھی جاری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ میں گذشتہ اکتوبر سے اب تک تقریباً 100 اسرائیلی قیدی زیر حراست ہیں، جن میں اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق تقریباً 64 زندہ ہیں۔