غزہ کی پٹی پر ادسرائیلی جنگ کے باوجود فلسطینی بچوں کو پولیو سے بچانے کی مہم کے دوران بھی اسرائیلی فوج کی بمباری جمعہ کے روز بھی جاری رہی ہے۔ اس طرح اسرائیل دنیا کی پہلی اور اکلوتی ریاست ہے جو پولیو کے طرے پلانے اور پینے والے دونوں پر مسلسل بمباری کی روایت قائم کی ہے۔
غزہ کی پٹی پر پولیو مہم کے دوران پہلے روز بمباری کرے والی اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز بھی پولیومہم کو بمباری سے روکنے اور اس پولیو مہم میں شامل بچوں اور افراد کو بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے کم از کم 12 کو قتل کر دیا ہے۔
اس سے پہلے یہ تو سننے میں آتا تھا کہ پولیو مہم کو روکنے اور پولیو ٹیموں کو بعض جگہوں پر انتہا پسندوں نے فائرنگ کر دی یا انہیں ہلاک کر دیا، مگر مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی فوج یہی کام پولیو کے سلسلے میں ہونے والی ٹیموں پر بمباری کر کے کررہی ہے۔ غزہ میں اپنی اسی جنگ کے دوران کئی بار اسرائیلی فوج ہسپتالوں پر اورہسپتالوں می زیرعلاج مریضوں پر بھی بمباری کرچکی ہے۔ اسی طرح بے گھر فلسطینیوں کو خوراک کے لیے قطاروں میں لگے جنگ زدہ فلسطینیوں کو بھی فائرنگ اور بمباری کر کے ہلاک کرتی رہی ہے۔
مگر جمعہ کے روز غزہ کی پٹی پر پولیو سے متعلق قطرے پلانے کے لیے جمع اور ٹیموں اور قطرے پینے کے لیے آئے بچوں اپر سرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی بچوں اور بڑوں کو قتل کر دیا ہے۔
طبی ماہرین کے بقول وزارت صحت کے حکام نے غزہ میں مزید دسیوں ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے کی مہم میں اسرائیلی بمباری کے باوجود حصہ لیا۔