اقوام متحدہ کے تفتیش کار کا اسرائیل پر غزہ میں 'فاقوں کی مہم' چلانے کا الزام

شدید بین الاقوامی دباؤ کے باعث اسرائیل نے محدود غذائی رسد کی اجازت دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

خوراک کے حق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد تفتیش کار نے اسرائیل پر غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کے خلاف "فاقوں کی مہم" چلانے کا الزام لگایا جس کی اسرائیل سختی سے تردید کرتا ہے۔

اس ہفتے ایک رپورٹ میں تفتیش کار مائیکل فخری نے دعویٰ کیا کہ یہ سات اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے دو دن بعد شروع ہوا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کو محدود کرنے کے الزامات "اشتعال انگیز طور پر جھوٹے" تھے۔

انہوں نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، "دانستہ فاقہ کشی کی پالیسی؟ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں - لیکن اس سے یہ سچ نہیں ہو جاتا۔"

شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد - بالخصوص قریبی اتحادی امریکہ کی طرف سے - نیتن یاہو کی حکومت نے بتدریج کئی راہداریاں کھول دی ہیں لیکن امداد کی ترسیل سختی سے کنٹرول شدہ ہو گی۔ فخری نے کہا کہ ابتدااً محدود امداد زیادہ تر جنوبی اور وسطی غزہ تک پہنچی لیکن شمال کی طرف نہیں جہاں اسرائیل نے فلسطینیوں کو جانے کا حکم دیا تھا۔

یونیورسٹی آف اوریگون سکول آف لاء کے پروفیسر فخری کو جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے خوراک کے حق پر تفتیش کار یا خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا اور انہوں نے 2020 میں یہ عہدہ سنبھالا۔

فخری نے کہا، "دسمبر تک دنیا میں قحط یا تباہ کن بھوک کا سامنا کرنے والے لوگوں کا 80 فیصد غزہ کے فلسطینیوں پر مشتمل تھا۔ جنگ کے بعد کی تاریخ میں کبھی بھی کسی آبادی کو اتنی جلدی اور مکمل طور پر بھوکا نہیں رکھا گیا جتنا غزہ میں مقیم 2.3 ملین فلسطینیوں کے ساتھ ہوا۔"

فخری جو انسانی حقوق، خوراک کے قانون اور ترقی سے متعلق قانونی کورسز پڑھاتے ہیں، نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں یہ الزامات لگائے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ اسرائیل کی آزادی اور فلسطینیوں کی مسلسل نقل مکانی کے 76 سال تک جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس کے بعد سے وہ "فلسطینیوں کے خلاف بھوک اور افلاس کی تکنیک کے مکمل سلسلے کا استعمال کر رہا ہے جو غذائی نظام کے ذریعے ہو سکتا ہے۔"

جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی، فخری نے کہا کہ انہیں اس علاقے کے غذائی نظام بشمول کاشت کاری اور ماہی گیری کی تباہی کی براہِ راست اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے اقوامِ متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم اور دیگر نے دستاویزی شکل دی اور تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا، "اسرائیل نے پھر انسانی امداد کو سیاسی اور فوجی ہتھیار کے طور پر غزہ میں فلسطینی عوام کو نقصان پہنچانے اور قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔"

اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ خوراک سمیت غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد پر مزید پابندیاں نہیں لگا رہا۔

بدھ کی پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے غزہ میں امداد کے داخلے کے لیے اسرائیل کے نگران فوجی ادارے کوگاٹ (سی او جی اے ٹی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا کہ 11 ماہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے 700,000 ٹن غذائی اشیاء کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

کوگاٹ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں خوراک کی اس امداد کا تقریباً نصف نجی شعبہ غزہ کے بازاروں میں فروخت کے لیے لایا ہے۔ تاہم غزہ میں کئی فلسطینی کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے کافی خوراک مہیا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اسرائیل امدادی ٹرکوں کو شمال میں دو چھوٹی راہداریوں اور جنوب میں ایک مرکزی راہداری کریم شالوم سے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم مئی میں جنوبی شہر رفح پر اسرائیلی حملے کے بعد سے اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ مفت تقسیم کے لیے امداد حاصل کرنے کی غرض سے کریم شالوم کی غزہ والی سمت تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے یہ بہت خطرناک ہو جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے غزہ کی انسانی صورتِ حال کو "تباہ کن سے کہیں زیادہ" قرار دیا ہے کیونکہ اگست میں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو خوراک کا کوئی راشن نہیں مل رہا تھا اور لوگوں کو روزانہ تیار شدہ کھانا ملنے میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے جمعرات کو کہا، اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی دفتر نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے انخلاء کے متعدد احکامات کو تیار شدہ کھانوں میں تیزی سے کمی کی جزوی وجہ قرار دیا۔ ان احکامات کی وجہ سے 130 میں سے کم از کم 70 کچن یا تو اپنے کام معطل کرنے یا دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ دوجارک نے مزید کہا، اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں کے پاس وسطی اور جنوبی غزہ میں مسلسل دوسرے مہینے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی غذائی سامان کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا، غزہ میں رسد کی شدید قلت دشمنی، عدم تحفظ، تباہ شدہ سڑکوں اور اسرائیلی رکاوٹوں اور رسائی کی پابندیوں کی وجہ سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں