غزہ جنگ اسرائیلی معیشت کے کس بل نکال دیے،بھاری معاشی خسارہ، مہنگائی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں جاری حالیہ جنگ کے دوران بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو کہ اسرائیل کی اب تک کی سب سے طویل جنگ ہے۔اگرچہ اس جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے قریب ہے مگر اس کے خاتمے کے فی الحال آثار دکھائی نہیں دیتے۔

’العربیہ بزنس‘ نے "دی کنورسیشن" ویب سائٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کا تجزیہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ماہ کی جنگ کے بعد اسرائیل کو برسوں بعد اپنے سب سے بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے، جیسا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے امیر ترین ممالک میں اسرائیل کی معیشت سب سے زیادہ سست روی کا شکار ہے۔

سات اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد ہفتوں میں اسرائیل کی جی ڈی پی میں 4.1 فیصد کمی آئی یہ کمی 2024ء تک جاری رہی جو پہلی دو سہ ماہیوں میں 1.1 فیصد اور اضافی 1.4 فیصد تک گر گئی۔

یکم ستمبر کو ہونے والی عام ہڑتال اگرچہ بہت ہی مختصر مدت کے لیے تھی مگر اس نے اسرائیل کی معاشی صورت حال کو مزید خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔

پورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں معیشت کی مکمل تباہی کے مقابلے میں اسرائیل کو درپیش معاشی چیلنجز بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے طویل جنگ جاری رہنے سے اسرائیلی مالیات، کاروباری سرمایہ کاری اور صارفین کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے اسرائیل کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، بڑی حد تک اس کے ٹیکنالوجی کے شعبے کی بہ دولت ملک کی سالانہ جی ڈی پی فی کس 2021 میں 6.8 فیصد اور 2022 میں 4.8 فیصد اضافے کے ساتھ مغربی ممالک سے کہیں زیادہ تھی۔

لیکن اس جنگ کے پھوٹ پڑنے کے بعد چیزیں ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئیں۔ جولائی 2024ء کی اپنی پیشن گوئی میں بینک آف اسرائیل نے 2024ء کے لیے اپنی نمو کی پیشن گوئی 2.8 فیصد سے کم کر دی ہے۔

لڑائی کے رکنے کے کوئی آثار نظر نہ آنے کے ساتھ بنک آف اسرائیل نے اندازہ لگایا ہے کہ 2025ء تک جنگ کی لاگت 67 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے 14.5 ارب امریکی ڈالرکے فوجی امدادی پیکج کے باوجود اسرائیل اسرائیلی جنگی اخراجات پورے نہیں ہوسکے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو اپنے وسائل مختص کرنے کے بارے میں مشکل انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مثال کے طور پر معیشت کے کچھ شعبوں میں اخراجات کو کم کرنے یا مزید قرض لینے کی ضرورت پڑے گی جبکہ یہ معلوم ہے کہ قرضوں میں اضافے سے قرض کی قسطیں بڑھ جائیں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں مالیاتی صورتحال کی خرابی کی وجہ سے بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نےملک کی درجہ بندی کم کردی ہے۔ فچ ایجنسی نے گذشتہ اگست میں اسرائیل کے کریڈٹ سکور کو A+ سے A تک اس بنیاد پر کم کر دیا تھا کہ اس کے فوجی اخراجات میں اضافے سے مالیاتی خسارے کو 2024 میں جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک بڑھایا گیاجو کہ پچھلے سال 4.1 فیصد تھا۔

مائیکرو اکنامک اشاریے کے علاوہ جنگ نے اسرائیل کی معیشت کے مخصوص شعبوں پر گہرا اثر ڈالا، مثال کے طور پر جنگ کے پہلے دو مہینوں میں تعمیراتی شعبے میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی۔ زرعی شعبہ بھی متاثر ہوا اور اس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

ایک اندازے کے مطابق 2024 میں 60,000 اسرائیلی کمپنیاں عملے کی کمی، سپلائی چین میں خلل اور کاروباری اعتماد میں کمی کی وجہ سے بند ہونے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جب کہ کئی کمپنیاں نئے منصوبے ملتوی کر دیتی ہیں۔

سیاحت اگرچہ اسرائیل کی معیشت کا ایک بڑا حصہ نہیں ہے مگر جنگ کی وجہ سے یہ شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے سیاحوں کی تعداد ڈرامائی طور پر گر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں