اسرائیلی شہر ناصرہ شدید معاشی بحران کا شکار اور بڑھتے ہوئے جرائم سے دوچار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حیفا کے بعد اسرائیل کا دوسرا بڑا عرب شہر "ناصرہ" ہے، جو حالیہ جنگ کے باعث شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔یہ وہ شہر ہے جہاں انجیل کے عقیدے کے مطابق، یسوع مسیح اور ان کی والدہ، مریم کا بچپن گزرا۔

شہر کی معاشی بدحالی کی وجہ گذشتہ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے سیاحت کے ذرائع ختم ہونا، زیادہ تر کاروبار بند ہونا اور حکومت کی جانب سے عدم تعاون ہے۔

جرائم کے پھیلاؤ، ناکافی سہولیات اور سڑکوں پر کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ، 80,000 آبادی والے شہر میں شہر کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

یہاں کے میئر علی سلام شہر کی حالت کی وجہ نہ صرف سیاحوں کی عدم موجودگی بلکہ اسرائیل کے عرب اور یہودی شہروں کے درمیان بجٹ میں تفاوت کو بھی قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کے امور میں مہارت رکھنے والی ایک خبر رساں ایجنسی میڈیا لائن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"مرکزی حکومت ہمیں یہودی شہروں کی طرح کی معاشی مدد فراہم نہیں کرتی ہے۔ "میرا بجٹ 500 ملین شیکل [$135 ملین] ہے، وہ 800 ملین شیکل نہیں جو ایک یہودی شہر کو ملے گا۔".

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ یہودی شہر ہوتا تو بجٹ زیادہ ہوتا۔ لیکن چونکہ ہم ایک عرب شہر ہیں، جو مسلمانوں اور عیسائیوں پر مشتمل ہے، تو ہمارے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ اب بھی دوسرے درجے کے شہری کے طور پر برتاؤ کیا جاتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ معاشی وسائل نہیں ملے جن کے ہم حقدار ہیں۔‘‘

" صورتحال بگڑ رہی ہے، اور ہم اس طرح کام جاری نہیں رکھ سکتے،‘‘ میئر کہتے ہیں۔ "معاشی صورتحال سنگین ہے۔ یکم ستمبر سے شروع ہونے والے تعلیمی سال کے ساتھ، خاندانوں کو کتابیں اور سامان خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بہت سے لوگ ان کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہمیں ان کی حمایت کے لیے بڑے بجٹ کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسکول کے عملے کی ماہانہ تنخواہوں کو بھی پورا کرنے کی ضرورت ہے، جو 10,000 سے 15,000 شیکل تک ہوتی ہے۔ یہ ایک اہم چیلنج ہوگا۔"

"بہت سے طلباء تعلیمی سال کا آغاز کتابوں یا سامان کے بغیر کریں گے۔ پرانے شہر میں سیاحت مکمل طور پر ٹھپ ہونے کی وجہ سے سب کچھ بند ہے۔ آج میونسپل کا صرف نصف عملہ کام کر رہا ہے، اور ہمیں یہ فکر ہے کہ ان کی تنخواہیں کیسے ادا کی جائیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔

عرب مقامی اتھارٹیز کے سربراہان کی قومی کمیٹی کے سی ای او امیر بشارت کے مطابق، "ناصرت بڑھتے ہوئے جرائم، بے روزگاری اور شہر کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے والے مقامی گروہوں کے اثر و رسوخ سے دوچار ہے۔جو شہر کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔"

"جب آپ کے پاس کم سرمایہ کاری اور کم روزگار ہو اور زیادہ نوجوان جن کی تعلیم ناقص ہے اور شہر کی طرف سے کوئی متبادل پیش نہ کیا جائے، تو یہ عام بات ہے کہ وہ جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہوتے ہیں، جو انہیں ان کے لیے کام کرنے کے لیے، یہاں تک کہ قتل کے لیے بھی پیسے دیتے ہیں۔"

بشارت نے وضاحت کی کہ مالدار یہودی شہروں کے مقابلے میونسپل ٹیکس کی کم آمدنی نے سڑکوں کی صفائی جیسی بنیادی خدمات کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے جو کہ ناصرت میں ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔

ناصرہ پناہ گاہوں کی کمی کا بھی شکار ہے، کیونکہ اسرائیل کے قیام سے پہلے بہت سے گھر تعمیر کیے گئے تھے۔ میئر نے کہا کہ وہ محفوظ زون بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن اس کوشش کے لیے جنگ کے وقت میں اہم وقت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں