حماس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پراپنی مخالفت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کی جانب سے گذشتہ روز مئی کے آخر میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی پیش کردہ تجویز سے اتفاق سے متعلق بیان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس پر اپنا ردعمل دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے آج جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ حماس اپنے موقف کی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

’ہم نے اگست کی پیشکش قبول کر لی ہے‘

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حماس اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کی مخالفت اور اسے ناکام بنا رہی ہے۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک نے "امریکہ کی طرف سے گذشتہ 16 اگست کو کی گئی حتمی ثالثی کی پیشکش کو قبول کر لیا تھا، لیکن حماس نے اسے مسترد کر دیا اور ہمارے چھ اغوا کاروں کو بھی ہلاک کر دیا"ْ۔

انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ حماس پر قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔

بدھ کی شام حماس نے اعلان کیا کہ تحریک کے رہ نما خلیل الحیہ کی سربراہی میں اس کے مذاکراتی وفد نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری وزیراعظم الشیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل سے ملاقات کی، تاکہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کی جا سکے۔

حماس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس نے بائیڈن کی تجویز سے اتفاق کیا تھا۔ حماس اسرائیل کی طرف سے پیش کیےگئے کسی بھی نئے مطالبے کو مسترد کرتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بائیڈن نے گذشتہ مئی کے آخر میں وائٹ ہاؤس سے ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ "اسرائیل نے جنگ بندی اور تمام قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک جامع تجویز پیش کی تھی، جو تین مراحل پر مشتمل تھی۔ ان میں سے پہلا مرحلہ مکمل جنگ بندی، پھر غزہ کے تمام آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا، پھر تمام قیدیوں کی رہائی شامل تھی۔

تاہم نیتن یاہو بعد میں مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر واقع فلاڈیلفیا کوریڈور (صلاح الدین محور) اور نیٹساریم کوریڈور میں فوج بدستور تعینات رکھنے پر اصرار کرتے رہے ہیں قیام کی پابندی کرتے رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں