سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے یک اسکول ہاؤس کو اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں مارے گئے افراد میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی برائے مہاجرین (UNRWA) کے ملازمین کی بھی شامل تھے۔ سعودی عرب نے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا بے دفاع شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہونے والی بڑی انسانی تباہی کو ختم کیا جائے۔
سعودی عرب نے امدادی سہولیات اور تنظیموں اور ان کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ مملکت کی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ کہ وہ بین الاقوامی احتساب کے طریقہ کار کو فعال کرے اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔
پانچویں بار
سعودی شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ پانچویں بار اسرائیل نے انروا سے منسلک الجاعونی سکول پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری میں انروا کے دو مازمین، بچوں اور خواتین سمیت 18 افراد مارے گئے ہیں۔ بمباری میں 18 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوگئے جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ تاہم انروا کے مطابق اس کے چھ کارکن حملے میں مارے گئے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مذکورہ چھ کارکنان کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قطعا قابل قبول نہیں ہے۔ ایک بار پھر 12000 ہزار افراد کو پناہ دینے والے اسکول کو فضائی بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔ مرنے والوں میں چھ افراد کا تعلق انروا ایجنسی سے ہے"۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران میں اسرائیل نے غزہ پٹی میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے کئی اسکولوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ یہاں حماس کے مسلح افراد چھپے ہوئے ہیں اور اسرائیلی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ حماس تنظیم اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔