گذشتہ چند روز میں حماس کے سربراہ یحیی السنوار نے خطے میں اپنی حامی دو تنظیموں کے سربراہوں کو دو خطوط پہنچائے۔ ان میں پہلا خط لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے نام اور دوسرا خط یمن میں حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے نام تھا۔ ان خطوط میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کی معاونت پر دونوں تنظیموں کا شکریہ ادا کیا گیا اور ان کو حاصل ہونے والی کامیابیوں پر مبارک باد پیش کی گئی۔
یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ حماس کے سربراہ جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ابھی تک غزہ کی کسی سرنگ میں روپوش ہیں، وہ اپنے یہ خطوط کس طرح پہنچاتے ہیں ؟
ایسا لگتا ہے کہ چند ماہ قبل حماس کے عسکری ونگ کے بانی صالح العاروری کی بیروت میں ہلاکت کے بعد سے یحیی السنوار نے ہاتھ سے تحریر کردہ خطوط اور نوٹس کے حوالے سے ایک پیچیدہ نظام اپنا لیا ہے۔
وہ بڑی حد تک ٹیلی فون کال کرنے یا موبائل سے مختصر پیغامات بھیجنے سے بھی گریز کرتے ہیں جن کا پتا چلانا اسرائیل کے لیے ممکن ہو۔
غزہ میں فائر بندی کی بات چیت میں شامل بعض عرب وساطت کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ السنوار عموما ہاتھ سے لکھا جو پیغام یا خط ارسال کرتے ہیں وہ پہلے حماس تنظیم کے ایک معتبر رکن کے پاس جاتا ہے۔
اس کے بعد وہ سلسلہ وار قاصدوں کو منتقل کیا جاتا ہے جن میں بعض قاصد عام شہری بھی ہو سکتے ہیں۔ وساطت کاروں نے واضح کیا کہ یہ پیغامات یا خطوط بیشتر اوقات مختلف حالات اور اوقات میں مختلف وصول کنندگان کے لیے مختلف خفیہ علامتوں یعنی Codes پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد وہ تحریری نظام ہے جس کو السنوار اور دیگر فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید کے دوران وضع کیا تھا۔
بعد ازاں یہ خط غزہ کے اندر کسی عرب وساطت کار یا حماس کے کسی رکن کو پہنچتا ہے جو ٹیلی فون کا استعمال کرتے ہیں یا پھر کوئی اور طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تا کہ اسے بیرون میں حماس کے ارکان کو بھیجا جا سکے۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی۔
اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس میں فلسطینی امور کے سابق سربراہ مائیکل میلشٹائن کا کہنا ہے کہ "مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ان نمایاں وجوہات میں سے ایک وجہ ہے جنھوں نے اسرائیلی فوج کو ابھی تک اس (السنوار) کا پتہ چلانے سے روکا ہوا ہے"۔
معلوم رہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس برقی رابطوں میں مداخلت کے لیے دنیا کے جدید ترین وسائل سے لیس ہے۔
العاروری کی ہلاکت کے بعد السنوار نے اپنے رابطوں کو مکمل طور پر تحریری پیغامات، نوٹس، ہدایات یا پھر براہ راست زبانی رابطے کی صورت میں محدود کر لیا ہے۔ کبھی کبھی وہ صوتی ریکارڈنگ بھی کراتے ہیں جو معاونین کے ایک چھوٹے حلقے کی جانب سے تقسیم کر دی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایک محقق عزمی کیشاوی نے واضح کیا ہے کہ السنوار نے اسرائیل کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل حماس تنظیم کے اندر ایک داخلی پولیس کا گروپ تشکیل دیا تھا جسے 'مجد' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گروپ نے مشتبہ مخبروں اور معاونین کا تعاقب کیا اور یہ گروپ اسرائیلی جیلوں میں بھی فعال تھا۔ اس گروپ نے جیل کے اندر اپنے ایجنٹ بھرتی کیے جو کوڈڈ پیغامات کو ایک شعبے سے دوسرے شعبے منتقل کرتے تھے۔ مذکورہ ایجنٹوں کے گروہ کو "السواعد" کا نام دیا گیا تھا۔ اس بات کا انکشاف "ابن حماس" نامی کتاب میں کیا گیا تھا۔ یہ کتاب حماس کے ایک سابق رکن نے لکھی جو بعد ازاں اسرائیلی جاسوس بن گیا تھا۔
"السواعد" کے عناصر ہاتھ سے لکھے پیغامات کو سفید روٹی میں لپیٹ کر گیند کی سی شکل دیتے تھے اور پھر انھیں سوکھنے رکھ دیتے تھے۔ سوکھنے کے بعد یہ لوگ ان گیندوں کو جیل کے ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں اچھال دیا کرتے تھے۔
تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان احتیاطوں اور علامتی اسلوب کے باوجود بھی بڑی حد تک خطرات موجود ہیں۔ کسی بھی غلطی کی قیمت السنوار کی جان جانے کی شکل میں چکانا پڑ سکتی ہے۔
-
حماس غزہ میں اسرائیل کے ساتھ "طویل معرکے" کے لیے تیار ہے: السنوار
حماس تنظیم کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار نے باور کرایا ہے کہ ان کی تنظیم ...
مشرق وسطی -
یحیی السنوار کے مستقبل کے بارے میں اسرائیل کی بات غیر منقطی ہے : حماس
حماس کے ایک ذمےدار کا کہنا ہے کہ تنظیم کو یحیی السنوار کے لیے محفوظ راستہ دینے کی ...
مشرق وسطی -
یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے السنوار کو محفوظ راستہ دینے کی اسرائیلی پیش کش!
ایک اسرائیلی ذمے دار نے فلسطینی اراضی میں بقیہ تمام یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آتے ...
مشرق وسطی