حزب اللہ کے ایک سینئر ذمے دار نے بتایا ہے کہ تنظیم کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ "خیریت" سے ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ ذمے دار نے کہا کہ تنظیم کے سربراہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس سے قبل منگل کے روز لبنان کے متعدد شہروں میں مواصلاتی "پیجر" آلات میں بیک وقت ہونے والے دھماکوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
لبنان کے وزیر صحت فراس الابیض نے بتایا تھا کہ پیجر دھماکوں کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 2800 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لوگوں کو زیادہ تر زخم "چہرے، ہاتھ اور پیٹ" پر آئے ہیں۔
شامی میڈیا کے مطابق شام میں بھی حزب اللہ کے ارکان اسی نوعیت کے دھماکوں میں زخمی ہوئے ہیں۔
اسی طرح کے پیجر دھماکے میں بیروت میں ایرانی سفیر مجتبی امانی بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بات ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بتائی۔
دریں اثنا حزب اللہ کے ایک ذمے دار نے باور کرایا ہے کہ منگل کو ہونے والی کارروائی تنظیم کے سیکورٹی نظام میں اب تک کی سب سے بڑی در اندازی ہے۔ ذمے دار کے مطابق لبنان کے مختلف علاقوں بڑی تعداد میں حزب اللہ کے ارکان زخمی ہوئے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ منگل کے روز سہ پہر 3:30 پر تنظیم کے مختلف یونٹوں اور ذیلی اداروں کے کارکنان کے پاس موجود متعدد "پیجر" آلات میں دھماکے ہوئے۔ بیان کے مطابق ان پراسرار دھماکوں کے نتیجے میں اس کے دو ارکان اور ایک بچی ہلاک ہو گئی۔
با خبر لبنانی ذرائع نے چند ماہ قبل تصدیق کی تھی کہ حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب سے نگرانی کی جدید ترین ٹکنالوجی سے بچنے کے لیے پیغامات میں علامتوں، لینڈ لائن فون اور پیجر آلات کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
مزید یہ کہ تنظیم نے موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی کیوں کہ ان کے ذریعے استعمال کرنے والے کے مقام کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ موبائل فون کی جگہ رابطے کے پرانے ذرائع مثلا پیجر اور زبانی پیغامبر کے استعمال کی ہدایت کی گئی۔
حزب اللہ کئی برس سے مواصلات کا زمینی نیٹ ورک استعمال کر رہی ہے جو اس نے سال 2000 میں قائم کیا تھا۔