یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار بوریل کی لبنان میں پیجر حملوں کی مذمت

حملوں میں ایک 10 سالہ بچی سمیت 12 افراد ہلاک اور 2800 کے قریب زخمی ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے بدھ کے روز لبنانی گروپ حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کے پاس موجود پیجرز کے دھماکوں کی مذمت کی جس کا الزام گروپ نے اسرائیل پر لگایا۔

جوزپ بوریل نے کہا، "اگرچہ حملے بظاہر ہدفی تھے پھر بھی ان میں شہریوں کو بھاری، اندھا دھند ضمنی نقصان پہنچا جس کے متأثرین میں بچے بھی شامل ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "میں اس صورتِ حال کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہوں۔ میں صرف ان حملوں کی مذمت کر سکتا ہوں جو لبنان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہوں اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہو۔"

بوریل نے مزید کہا، "یورپی یونین تمام متعلقین سے ایک ہمہ گیر جنگ کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہے جس کے پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔"

حزب اللہ نے بدھ کے روز اسرائیل کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا جب لبنان کے طول و عرض میں ایک مہلک لہر میں گروپ کے ارکان کے زیرِ استعمال سینکڑوں پیجنگ آلات دھماکے سے پھٹ گئے۔

اسرائیل نے ان دھماکوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جن میں حزب اللہ کے ایک رکن کی 10 سالہ بیٹی سمیت 12 افراد ہلاک اور 2800 کے قریب زخمی ہوئے۔

ان دھماکوں سے بین الاقوامی خدشات کو تقویت ملی ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازعہ ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دھماکوں سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے غزہ جنگ کے مقاصد کو وسعت دینے کے لیے اس میں لبنان کے ساتھ سرحد پر حزب اللہ کے خلاف لڑائی شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب تک اسرائیل کا مقصد حماس کو کچلنا اور سات اکتوبر کے حملوں کے یرغمالیوں کو واپس لانا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں