جنگ پھیلنے کے خطرات، اسرائیل نے غزہ سے 98واں ملٹری ڈویژن شمال کی طرف منتقل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان-اسرائیلی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں وسعت کے خدشے کے پیش نظر اور گذشتہ روز لبنان کے متعدد علاقوں میں ہونے والے "پیجر" ڈیوائس میں ہونے والے دھماکوں کے بعد اسرائیل نے اپنی فوج کا ایک ڈویژن شمالی سرحد پر منتقل کردیا ہے۔

باخبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 98ویں جنگی ڈویژن کو غزہ سے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں جنگ میں سرگرم 98 ویں ڈویژن کو اسرائیل کی شمالی کمان کے تحت پیرا ٹروپرز اور کمانڈوز ڈویژن کے ساتھ 36 ویں ڈویژن میں شامل کردیا ہے۔

جنگ کے دائرہ وسعت پذیر

اسرائیلی فوج کے 98ویں ڈویژن جس میں تقریباً 10,000 سے 20,000 اسرائیلی فوجی شامل ہیں نے خان یونس سے اگست کے آخر سے شمال کی طرف منتقل کیا گیا تھا۔

یہ قدم حزب اللہ کے خلاف وسیع تر تصادم کے پھوٹ پڑنے کے خدشات کے جلو میں اٹھایا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب منگل کو حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کے زیر استعمال پیجرز ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جن میں ایک لڑکی کے علاوہ حزب اللہ کے11 ارکان ہلاک اور تقریباً 3000 دیگر زخمی ہوئے۔

حزب اللہ کی دھمکی

دوسری طرف حزب اللہ نے غزہ میں حماس کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں "جاری رکھنے" کا اعلان کیا ہے۔

اس نے اسرائیل کے خلاف بدلہ لینے کا عزم بھی کیا اور کہا کہ ڈیوائسز میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کو دھمکی آمیز لہجے میں پیغام دیا کہ اسے یہ حملہ مہنگا پڑے گا۔

یہ دھمکیاں انٹیلی جنس ذرائع کے انکشاف کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس حملے کی منصوبہ بندی کچھ عرصہ قبل اس وقت شروع کی تھی جب حزب اللہ نے اپنے نیٹ ورک کے زیادہ تر نظام کو لینڈ لائن سسٹم سے جوڑ دیا تھا۔

حزب اللہ کے ایک ذریعے نے اعتراف کیا کہ یہ خلاف ورزی 7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

انٹیلی جنس کامیابی

یہ درست حملہ بڑے پیمانے پر پرانے اوزاروں کا استعمال کرتے ہوئے گذشتہ جولائی کے آخر میں تہران میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کے لیے ایک بڑی کامیابی کی نمائندگی کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ ہیک اس وقت سامنے آیا جب لبنانی ذرائع نے مہینوں پہلے (گزشتہ جولائی سے) اطلاع دی تھی کہ حزب اللہ نے پیغامات، لینڈ لائن فون لائنز اور پیجرز میں کوڈز کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اسرائیل کی جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی سے بچنے کی کوشش کی جا سکے، جس کا مقصد قاتلانہ حملے سے بچنا ہےکیونکہ جدید مواصلاتی آلات کی مدد سے ماضی میں بھی حزب اللہ کے سینیر رہ نماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں