انٹونی بلنکن مشرق وسطی اور یوکرین پر اہم تبادلہ خیال کے لیے پیرس پہنچ گئے
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مشرق وسطی کے سلسلے میں فرانس کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں شرکت کے لیے پیرس پہنچ گئے ہیں۔
فرانس نے یہ مشاورت اسرائیل کے حزب اللہ پر پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بلائی ہے۔
تاہم امریکہ کی طرف سے اسرائیلی پیجر حملے میں ہزاروں لبنانیوں کے نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی مذمت نہیں کی گئی ہے۔
البتہ وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز حملہ کرنے اور حملے کے باعث ہزاروں کی تعداد میں زخمیوں کو سنبھالنے اور درجنوں ہلاکتیں برداشت کرنے والے دونوں فریقوں کو کشیدگی بڑھنے سے خبردار کیا ہے۔
انٹونی بلنکن پیرس میں اپنے مختصر قیام کے دوران متعدد یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات اور تبادلہ خیال کریں گے۔ ان میں فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ شامل ہوں گے۔ جرمنی کی نمائندگی وزیر خارجہ کی جگہ جرمن وزارت خارجہ کا نمائندہ کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ فرانسیسی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔
بلنکن جو کہ شرق اوسط سے فرانس پہنچے ہیں ۔ یہ ان کا اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران خطے کا دسواں مسلسل دورہ تھا۔ تاہم اس دوران ان کے دورے کا مقصد اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے ثالثی مذاکرات میں بطور ثالث بیٹھنے والے ملکوں کے حکام سے ہی ملاقات کرنا پیش نظر تھا۔
امکان ہے اس اہم وزارتی اجتماع میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگی صورت حال بھی تبادلہ خیال کا اہم موضوع ہو گا۔