پیجر حملے، اسرائیل کو مزاحمتی گروپوں کا جواب جلد بھگتنا ہوگا: سربراہ پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی پاسداران انقلاب کور نے جمعرات کے روز اسرائیل کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مزاحمتی محاذ سے تباہ کن جواب کا سامنا کرنا ہوگا۔
پاسداران کے کمانڈر حسین سلامی نے یہ دھمکی لبنان میں اسرائیل کے پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کے بعد جاری کیے گئے بیان میں دی ہے۔

یاد رہے منگل اور بدھ کے روز سے اسرائیل نے لبنان میں تو غیر معمولی اور انتہائی اشتعال انگیزی پر مبنی کارروائیاں کی ہیں جن میں ہزاروں لبنانی زخمی اور اب تک لگ بھگ تین درجن ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملے اسرائیلی خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر پیجر بنانے والی کمپنی اور واکی ٹاکی بنانے والی ٹیلی کام کمپنیوں سے مل کر کیے ہیں تاکہ حزب اللہ کی کمر توڑ سکیں اور لبنانیوں کو بتا سکیں کہ اسرائیل کی دسترس سے ان میں سے کوئی بھی دور اور محفوظ نہیں ہے۔

ان حملوں کے جواب میں حزب اللہ کے سربراہ نے پھر ایک جوابی تقریر کی ہے اور ایران کی طرف سے اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے لیے یہ دوسرا اہم بیان ہے۔ اسرائیل کے ان حملوں میں لبنان میں تعینات سفیر بھی زخمی ہوا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے ان حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل جنگی محاذ کو اب لبنان کی طرف لا رہا ہے۔ ان پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کے ساتھ ہی اسرائیل نے لبنانی سرحد پر اپنی فوجی نفری میں بھی اضافے کا اعلان کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے مزید کہا ' اسرائیل کے یہ دہشت گردانہ حملے بلا شبہ صہیونی بوکھلاہٹ اور مسلسل ناکامی کی وجہ سے ہیں۔ تاہم اسرائیل کو جلد ان کا جواب بھگتنا پڑے گا۔

حسین سلامی کا ایران کے سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والا یہ بیان حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ایک پیغام کی صورت بھیجا گیا ہے۔

ایرانی حمیات یافتہ حزب اللہ آٹھ اکتوبر سے غزہ کی جنگ کے خلاف اسرائیلی فورسز پر راکٹ حملے کر رہی ہے۔ جبکہ ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثی ماہ نومبر سے بحیرہ احمر میں اسرائیل کے خلاف متحرک ہیں۔ اسی طرح عراق سے تعلق رکھنے والا گروپ بھی سرگرم رہتا ہے۔

اسرائیل نے اس سلسلے میں کئی بار لبنان اور ایران کے اندر تک اسرائیلی جنگی حملے کیے ہیں۔ انہی میں سے ایک حملے کا جواب ایران نے ماہ اپریل میں میزائل حملے کی صورت دیا تھا۔ لیکن اسرائیل نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے اس ایرانی حملے کو روک لیا تھا۔ یہ حملہ دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں