برطانیہ کے دنیا بھر میں جانے مانے میڈیا ہاؤس 'بی بی سی' کو اس وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا انٹرویو منسوخ کرنا پڑا جب 'بی بی سی' اینکر نے اپنے تیار کردہ نوٹس ، نکات اور سوالات اپنی ٹیم کو بھیجنے کے بجائے وزیراعظم کو بھیج دیے اور یہ بات سب کے سامنے آگئی۔
خیال رہے 'بی بی سی' یا بین الاقوامی طور پر مانے گئے اداروں کی اس طرح کی 'بندوبستی' یا 'غیربندوبستی حماقتیں' عام طور پر ناظرین اور سامعین کے سامنے نہیں آتیں۔ اس سے بڑے اداروں کا بھرم قائم رہ جاتا ہے۔
تاہم 'بی بی سی ' کی اس مشہور و معروف پریزنٹر کی وجہ سے یہ نوبت بھی آگئی۔ خیال رہے وہ بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر رہ چکی ہیں اور آج کل اتوار کے روز معروف مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں۔
میزبان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم' ایکس' پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے 'اسے اور کچھ نہیں کہہ سکتی ہوں کہ میری غلطی سے میرا ٹیم کے لیے تیار کردہ میسج سابق وزیراعظم بورس جانسن کو چلا گیا۔'
سرکار کی زیر ملکیت ادارے 'بی بی سی' کے نمایاں سیاسی وقائع نگاروں پر عام طور پر سوشل میڈیا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ کسی ایک یا کسی دوسری جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔'
-
ایرانی میزائل حملہ : برطانوی فوج بھی اسرائیلی دفاع کے لیے جنگی کارروائی میں شامل رہی
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ایرانی میزائل حملے کو روکنے ...
مشرق وسطی -
بہتر دماغی صحت کے لیے بچے کو کس عمر میں سیل فون کے استعمال کی اجازت دی جائے؟
بہت سے ممالک میں سکول کلاس رومز میں اسمارٹ فونز کی مسلسل موجودگی کے خلاف مزاحمت ...
ایڈیٹر کی پسند -
کیا ملانیا کی ’یاداشتیں‘ان کے شوہرٹرمپ کی صدارتی مہم کو "نقصان" پہنچا سکتی ہیں؟
’سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا کا ’استقاط حمل‘ سے متعلق موقف اپنے شوہر کے موقف سے ...
بين الاقوامى