بی بی سی اینکر کی بدحواسی ، سابق برطانوی وزیراعظم کا انٹرویو منسوخ کرنا پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

برطانیہ کے دنیا بھر میں جانے مانے میڈیا ہاؤس 'بی بی سی' کو اس وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا انٹرویو منسوخ کرنا پڑا جب 'بی بی سی' اینکر نے اپنے تیار کردہ نوٹس ، نکات اور سوالات اپنی ٹیم کو بھیجنے کے بجائے وزیراعظم کو بھیج دیے اور یہ بات سب کے سامنے آگئی۔

خیال رہے 'بی بی سی' یا بین الاقوامی طور پر مانے گئے اداروں کی اس طرح کی 'بندوبستی' یا 'غیربندوبستی حماقتیں' عام طور پر ناظرین اور سامعین کے سامنے نہیں آتیں۔ اس سے بڑے اداروں کا بھرم قائم رہ جاتا ہے۔

تاہم 'بی بی سی ' کی اس مشہور و معروف پریزنٹر کی وجہ سے یہ نوبت بھی آگئی۔ خیال رہے وہ بی بی سی کی پولیٹیکل ایڈیٹر رہ چکی ہیں اور آج کل اتوار کے روز معروف مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں۔

میزبان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم' ایکس' پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے 'اسے اور کچھ نہیں کہہ سکتی ہوں کہ میری غلطی سے میرا ٹیم کے لیے تیار کردہ میسج سابق وزیراعظم بورس جانسن کو چلا گیا۔'

سرکار کی زیر ملکیت ادارے 'بی بی سی' کے نمایاں سیاسی وقائع نگاروں پر عام طور پر سوشل میڈیا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ کسی ایک یا کسی دوسری جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں