اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز لڑاکا طیاروں کے ذریعے مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں بمباری کر کے 18 فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے شروع کیے گئے "غیر قانونی" حملے کی مذمت کی ہے۔
انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کا ایک پریشان کن نمونہ ہے۔ ان حملوں سے فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ جانی نقصان کے ساتھ فلسطینیوں کی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مغربی کنارے میں منظم طریقے سے مہلک طاقت کا سہارا لینے کی ایک اور واضح مثال ہے۔ بیان میں اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
دفتر نے مزید کہا کہ فضائی بمباری سے رہائشیوں سے بھری ہوئی ایک پوری عمارت کی تباہی اسرائیل کی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بڑی غفلت کو ظاہر کرتی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اس مقام پر کوئی جھڑپیں یا تصادم نہیں ہو رہا تھا۔ فضائی حملے نے نشانہ بننے والی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور پڑوسی گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملبے کے نیچے مزید افراد کی میتیں ہوسکتی ہیں۔ لیکن دھماکے کے بڑے اثرات کی روشنی میں ان کی شناخت بھی مشکل ہوجائے گی۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے جمعے کے روز ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ تحریک کے رہنما زاھی یاسر عوفی سات دیگر جنگجوؤں کے ساتھ مغربی کنارے کے شہر طولکرم پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔
جمعے کے روز سینکڑوں افراد نے اس اسرائیلی حملے کے متاثرین کا سوگ منایا اور مظاہرہ کیا۔ شرکا نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔کچھ شرکا نے ہوائی فائرنگ کی۔ ایک صحافی نے اس دوران سیاہ لباس پہنے نقاب پوش بندوق برداروں کو بھی مظاہرے میں دیکھا ۔
حملے میں شہید ایک فلسطینی کے والد نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ فلسطینی عوام ایک ہو جائیں گے۔ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سروس نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ بمباری میں طولکرم کے علاقے میں القسام کے کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔ جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فضائی حملے میں سب سے زیادہ ہے۔
جرمنی نے طولکرم میں پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے پر صدمے کا اظہار کیا۔ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں نے مغربی کنارے میں کم از کم 699 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ اس عرصے میں فلسطینیوں کے حملے میں 24 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔