اقوام متحدہ کی امن فوج کا لبنان اسرائیل سرحد پر قائم امن پوزیشنیں خالی کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل لبنان سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج نے اسرائیل کے کہنے کے باوجود اپنی امن چوکیاں اور پوزیشنیں چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اسرائیلی فوج کو جمعرات کے روز درپیش ہوا ہے۔

موقعہ پر موجود امن فورس کے سربراہ نے اس بارے میں اسرائیل کو بھی بتا دیا ہے کہ پوزیشنیں نہیں چھوڑیں گے اور اس مواصلاتی سسٹم سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے جو دونوں ملکوںں کے ساتھ رابطے کے لیے امن فوج کے زیر استعمال ہے۔

اقوام متحدہ کی امن فورس نے اسرائیل کو جواب دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار داد اور مینڈیٹ کے مطابق اپنا کام بہترین اور پوری طرح جاری رکھنے کی کوشش پر کار بند رہے گی۔

یواین امن فورس کے علاقے میں موجود چیف جین پیرے لیکرائیکس نے اس بارے میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگرچہ حالات اچھے نہیں تاہم یہ ان کا فیصلہ ہے اور اچھے مواقع اور مشکل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دونوں طرح کے متبادل منصوبے موجود ہیں۔

امن مشن سے متعلق اس یو این فورس کو یہ مینڈیٹ دیاگیا ہے کہ وہ لبنانی فوج کو سرحد سے متصل علاقہ اسلحے سے پاک رکھے میں مدد دے۔ لبنانی ریاستی فوج کے علاوہ جو کوئی بھی اسلحہ اپنے ہمراہ لاتا ہے۔اسے روکے اس وجہ سے یرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے سآتھ بھی مسائل رہے ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں اسرائیلی فوج نے امن فورس سے کہا تھا کہ وہ جلد سے جلد ' بلیو لائن ' کی پانچ کلو میٹر کی دو طرفہ پٹی سے نکل جائے اور خود کو کہیں اور سٹیشن کرے۔ تاکہ اسرائیلی فوج کے حملے میں محفوظ رہ سکے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز ' نے یہ اسرائیلی پیغام دیکھا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی امن فوج ابھی اپنی امن پوزیشنیں خالی نہیں کر رہی ہے۔ جبکہ اسرائیل اور لبنان دونوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ امن فوج کو تحفظ اور سہولت فراہم کریں اور اس کے مینڈیٹ کا احترام کریں۔

امن فورس چیف نے کہا میں بھی اس پر اصرار کرتا ہوں اس سلسلے میں میرا دونوں طرف کی حکومتوں سے رابطہ ہے۔ حتی کہ دونوں ملکوں میں رابطے کا بھی یہی ایک ذریعہ ہے۔

امن چیف نے کہا ان کے سپاہی سویلینز کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ نیز انہیں انسانی بنیادوں پر امداد بھی پہنچارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں