غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ میں کمی نہیں کی جائے گی:کملا ہیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی نائب صدر اور صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے صدارتی مہم کے عین عروج پر یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اور غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں عرب رہنماؤں اور اسرائیل پر اپنے دباؤ کو جاری رکھے گا اور اس میں کمی نہ ہو نے دے گا۔ غزہ میں جنگ کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

امریکہ شروع میں غزہ میں جنگ بندی کا حامی نہیں تھا۔ 31 مئی سے اس کے موجودہ صدر جوبائیڈن نے اس سلسلے میں ایک باضابطہ تین مراحلہ پر مبنی جنگ بندی فارمولہ پیش کیا تھا تاکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار بنیادوں پر جنگ بھی مکمل ختم ہو جائے۔ مگر اس فارمولے پر اسرائیل نے پہلے اتفاق اور پھر انکار کر دیا۔

اس کے بعد امریکہ نے نئی تجاویز سامنے لا کر غیر رسمی انداز سے اس فارمولے سے عملاً دستبرداری کر لی ۔ جبکہ حماس کی طرف سے اسی فارمولے پر ہوچکے اتفاق پر اصرار کیا جاتا رہا۔ اور جنگ بندی ہونے کے بجائے جنگ میں اسرائیل اور شدت لاتا رہا تا آنکہ اس نے اس جنگ کو باقاعدہ طور پر لبنان تک پھیلا دیا ہے۔ جبکہ غزہ اور بیروت و گردونواح میں اسرائیلی بمباری کی شدت اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ تیزتر ہو گیا۔

دلچسپ بات ہے کہ جوبائیڈن فارمولہ رد ہونے کے بعد بھی اسرائیلی جنگ کے لیے امریکی اسلحے کی فراہمی میں کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی اسرائیل کے دوسرے اتحادی مغربی ملکوں نے اس سلسلے میں کوئی کمی کی ہے۔ اس پس منظر میں اب کملا ہیرس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ فریقین پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ان کے یہ خیالات ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئے ہیں۔ انٹرویو اتوار کے روز جاری کیا گیا ہے۔

کملا ہیرس نے ' سی بی ایس' کے پروگرام 60 منٹ میں کہا امریکہ اسرائیل کے ساتھ انسانی بنیادوں پر مل کر کام کر رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جانی چاہیے اور جنگ بندی کی جانی چاہیے۔ اس لیے امریکہ اس سلسلے میں اسرائیل پر بھی اپنا دباؤ جاری رکھے گا کہ جنگ بندی ہو اور خطے کے عرب رہنماؤں کو بھی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کہا جاتا رہے۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے دلیل کے طور پر کہا ' امریکی کوششیں متعدد بار نتیجہ خیز ہوئی ہیں، اس کے نتائج بطور خاص علاقے میں اسرائیل نے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ ان میں امریکہ نے بہت سی اسرائیلی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری طرف سے خطے میں وکالت جاری رہنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے بارے میں انہوں نے کہا ' ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم اسرائیل کو اس طرح کے حملوں کے حوالے سے اس کے حق دفاع کی اجازت دینے کے لیے جو کر سکتے ہیں کریں۔ اسرائیل اب تک صرف غزہ میں 41870 مار چکا ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

یاد رہے غزہ پر اسرائیل جنگ کا ایک سال مکمل ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی اسرائیل اپنی توجہ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان کی حزب اللہ اور لبنان کی طرف موڑ چکا ہے۔ اسرائیل اسے ایرانی میزائل حملے کا جواب بھی کہتا ہے۔

ایک سوال کو تبدیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا نیتن یاہو امریکہ کا حقیقی اور قریبی اتحادی ہے بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ' امریکی عوام اور اسرائیلی عوام کے درمیان اتحاد ہے ؟ ۔۔۔ اور اس سوال کا جواب ہے ' ہاں ۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں