تل ابیب : سائرن بجنے کی گونج نے لرزا دیا، کئی علاقوں میں میزائل روکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے حیفا پر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے حالیہ سنگین حملے کے بعد پیر کے روز اس خوف کے ماحول میں سائرن بجائے تو وسطی اسرائیل میں سراسیمگی پھیل گئی۔

اسرائیلی فوج کے سائرن بجانے کا سبب وسطی اسرائیل کا سب سے بڑا شہر تل ابیب بنا جس پر متوقع طور پر حزب اللہ کے فائر کردہ میزائل گرنے والے تھے۔

اسرائیل کی فوج کے بیان کے مطابق یہ میزائل حملے لبنانی سرحد کی جانب سے کیے گئے تھے۔ اس میزائل حملے سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے وسطی اسرائیل کے کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔

اسرائیل کی پولیس نے بتایا کہ اس کی طرف سے امکانی طور پر نشانہ بننے والے علاقوں کے نزدیکی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی تھی تاکہ فوری ریسکیو کے لیے کارروائی شروع کی جاسکے۔ نیز شہریوں کی زندگی بچانے کی کارروائی کی ضرورت پڑے تو ان کی فوری مدد کی جاسکے۔

بعد ازاں ایک اور فوجی بیان میں کہا گیا ' لبنان کی طرف سے آنے والے اس میزائل حملے میں شامل میزائلوں کو کئی مقامات پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم فوج کے جاری کردہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میزائلوں نے کس علاقے میں اسرائیلی ایئر ڈیفنس کو ناکام بنایا ہے۔

واضح رہے تین مختلف قسموں کا اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم پچھلے دنوں میں اتنا کامیاب نہیں ہو پا رہا ہے جس کا اسرائیل کو بھروسہ رہتا تھا، اس صورت حال میں اسرائیلی شہری بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ پریشان ہیں۔

خود اسرائیلی حکام نے بھی امریکہ سے ایک زیادہ موثر دفاعی نظام کے حصول کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس امریکی دفاعی نظام کا نام ' ٹرمینل ھائی آرٹی ٹیوڈ اٹیک ' بتایا گیا ہے جو 150 کلومیٹر سے 200 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکہ میں بھی اس بارے میں غور کر لیا گیا ہے کہ اس دفاعی سسٹم کی امریکی فورسز کو بھی مشرق وسطیٰ میں پہلی بار ضرورت محسوس ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں