سعودی عرب 'ترقی کے لیے انقلاب پذیر طاقت' بن چکا ہے: گورنر پی آئی ایف

مملکت مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بننے کی خواہاں ہے: یاسر الرمیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب دنیا میں ترقی کے لیے ایک انقلاب پذیر قوت بن گیا ہے، یہ بات پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے گورنر یاسر الرمیان نے کہی۔ وہ ریاض میں پیر کو فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو (ایف آئی آئی) کے آٹھویں ایڈیشن کے آغاز کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔

الرمیان نے ملکی سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ سعودی مملکت پی آئی ایف کے عالمی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو 30 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایف آئی آئی کے افتتاحی اجلاس میں الرمیان نے کہا، "لوگ ہمارے پاس آتے تھے اور پیسے مانگتے تھے۔" لیکن اب، انہوں نے مزید کہا: "ہم یہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ ہم سے پیسہ لینا چاہتے تھے، وہ اب مشترکہ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔"

مصنوعی ذہانت پر توجہ

الرمیان نے مصنوعی ذہانت پر ریاض کی توجہ کو نمایاں کرتے ہوئے کہا، سعودی عرب اس شعبے کا عالمی مرکز بننے کی خواہش رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اس شعبے میں نہ صرف ایک علاقائی بلکہ عالمی مرکز بننے کے لیے بہت اچھی پوزیشن میں ہے۔" انہوں نے کہا، اگلے پانچ ہی سالوں میں عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ مصنوعی ذہانت پر مشتمل ہو گا کیونکہ یہ "صحت سے لے کر توانائی تک ہر شعبے کو" متأثر کرے گی۔

ایف آئی آئی انسٹی ٹیوٹ کے توجہ کے چار بنیادی شعبے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس، تعلیم، صحت اور پائیداری ہیں۔

ایف آئی آئی انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او رچرڈ اٹیاس نے کانفرنس سے قبل العربیہ کو بتایا، مصنوعی ذہانت اس سال کے اہم موضوعات میں سے ایک ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کس طرح قابلِ تجدید توانائی، صحت کے شعبوں، حکومتی طریقہ کار اور دیگر معاملات میں خلل پیدا کر رہی ہے، ان طریقوں کا جائزہ لینے کے لیے کانفرنس میں کئی سیشنز ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں