اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی طرف سے ' انروا ' پر عاید کی گئی پابندی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی کرے ۔ ' انروا ' غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بےگھر فلسطینیوں کی انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے سب سے اہم ادارہ ہے۔
سلامتی کونسل نے ' انروا' کے بارے میں اسرائیلی اقدام پر اس تشویش کا اظہار بدھ کے روز کیا ہے۔ سلامتی کونسل نے اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس ادارے کو حاصل حقوق اور استثنائی حیثیت کا احترام کرے۔ اسرائیل نے اس عالمی ادارے کو اس پابندی لگانے کے عمل سے پہلے کافی عرصہ سے اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنا رکھا تھا۔
اپنے جاری کردہ ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا ' تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ ' انروا' کو اس کے مینڈیٹ کے مطابق تمام متعقہ علاقوں میں کام کرنے دیں۔ کیونکہ یہ ریلیف ایجنسی جنگ زدہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
سلامتی کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ کوئی بھی دوسرا ادارہ انسانی بنیادوں پر کام کے لیے 'انروا ' کا متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔ 'انروا' کا پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مینڈیٹ اور اس کی اہلیت سب اداروں پر حاوی ہیں۔ اس کی امداد زندگیوں کو بچانے والی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سات اکتوبر سے مسلسل غزہ اور حماس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر رہی ، اگرچہ زیادہ تر قراردادوں کو امریکہ نے اسرائیل اور اسرائیلی جنگ کے حق میں ویٹو کر دیا ہے۔
مگر بدھ کے روز امریکہ اور اس کے بڑے مغربی اتحادیوں نے اسرائیل کی طرف سے 'انروا' پر لگائی پابندی پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ تاہم اس امر کا سلامتی کونسل کے بیان میں اہتمام کیا گیا نظر آتا ہے کہ اسرائیل کی مذمت کا لفظ سامنے نہ آئے بیان سے صرف تشویش ہی ٹپکے۔ نہ ہی اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور اقدار کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'انروا' کے کام میں کسی تعطل کی وجہ سے انسانی حوالے سے بہت مضمرات ہوں گے اور علاقے میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزین متاثر ہوں گے۔ واضح رہے انسانی بنیادوں پر غزہ میں کام کرنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی بمباری نے 233 کے قریب 'انروا ' کارکنوں کو بھی ایک سال میں قتل کر دیا ہے۔