اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا ہے ایک مقتدر فلسطینی ریاست کے قیام کی باتیں غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔ وہ یروشلم میں رپورٹرز سے بات چیت کر رہے تھے۔
اسرائیل کے نئے مقرر کردہ اعلیٰ ترین سفارت کار کا کہنا تھا میرا نہیں خیال کہ فلسطینی ریاست کی باتیں حقیقت پسندانہ ہیں۔ اس لیے میں کہوں گا کہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اس بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں کہی ہے۔
ان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ عرب ممالک کے ساتھ نارملائزیشن کے بدلے میں کیا اسرائیل فلسطینی ریاست کا قیام گوارا کر لے گا۔ جس پر انہوں نے کہا ' فلسطینی ریاست کا مطلب حماس کی ریاست ہو گا۔ '
واضح رہے عرب اور مسلم دنیا کے رہنما ریاض میں اکٹھے ہو کر مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کا دو ریاستی حل مانگ رہے ہیں۔ کئی اہم رہنماؤں نے بھی دو ریاستی حل کو ہی مسئلے کا حل قرارا دیا ہے۔
-
امریکہ اس ہفتے غزہ کے امدادی بحران پر اسرائیل کی پیش رفت کا فیصلہ کرے گا
انسانی حالات کی بہتری کے لیے امریکہ کی اسرائیل کو ڈیڈلائن
بين الاقوامى -
لبنان میں جنگ بندی پر 'مخصوص پیش رفت' ہوئی ہے: اسرائیل
اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے پیر کے روز کہا کہ لبنان میں جنگ بندی پر "مخصوص ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کسی بھی لبنانی دیہات پر قبضہ نہیں کر سکی ہے: حزب اللہ
حزب اللہ کے ترجمان محمد عفیف کی نیوز کانفرنس
مشرق وسطی