انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق بدھ کو تدمر پر اسرائیلی حملوں میں 92 ایران نواز مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر اب تک کا مہلک ترین حملہ تھا۔
سیریئن آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے کہا کہ تدمر میں تین مقامات پر حملہ کیا گیا جن میں ایران نواز گروپوں کا ایک اجلاس نشانہ بنا۔ اس میں عراق کے النجباء گروپ اور لبنان کی حزب اللہ کے کمانڈر بھی شامل تھے۔
آبزرویٹری نے بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد 92 تک پہنچ گئی ہے جن میں "61 شامی ایران نواز جنگجو اور 27 غیر ملکی شہری جن میں سے زیادہ تر النجباء سے ہیں اور چار حزب اللہ سے۔"
شام کے اندر ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرنے والے برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری نے پہلے 82 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی جبکہ شام کی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز کہا تھا کہ 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کی نائب خصوصی ایلچی نجات رشدی نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ یہ شام میں ممکنہ طور پر اب تک کا مہلک ترین اسرائیلی حملہ تھا۔
آبزرویٹری نے کہا کہ عالمی سطح پر مشہور گریکو رومن کھنڈرات سے متصل ایک جدید شہر تدمر میں ہونے والے حملوں میں "صنعتی علاقے کے قریب ہتھیاروں کے ڈپو" کو بھی نشانہ بنایا گیا۔