اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی مہم کے دو ماہ بعد قبضے میں لیے جانے والے "مال غنیمت" کی نمائش کی ہے۔ اس مال غنیمت میں حزب اللہ کے قبضے سے لیے گئے 60,000 سے زیادہ ہتھیار اور مختلف فوجی سازوسامان شامل ہے۔
یہ اسلحہ اور گولہ بارود حزب اللہ کی طرف سے جنوبی لبنان کے دیہاتوں میں مختلف مقامات پر ذخیرہ کیا گیا تھا۔
اس پر ایک آرمی یونٹ نے کارروائی کی جسے اٹل ڈائریکٹوریٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ لاجسٹکس میں ٹرافی کے نام سے جانا جاتا ہے، جو آتشیں اسلحے، جنگی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، راکٹ لانچروں، طیارہ شکن میزائل لانچروں اور انٹیلی جنس سروسز کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔
اسرائیلی فوج کے ذرائع کے مطابق فوج نے جو کچھ قبضے میں لیا وہ اسرائیلی سرحد کے قریب حزب اللہ کے اجتماعی علاقوں میں پائے جانے والے اسلحے کے نصف سے بھی کم ذخیرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ زمینی فوج کی جانب سے لوٹے گئے ہر 4 ہتھیاروں کے ذخیرے کے بدلے تقریباً 6 کو تباہ کر دیا گیا۔ پکڑے گئے 10,000 بڑے ہتھیاروں میں 40 ایم ایم کے گولے، میزائل اور ٹینک شکن ہتھیار شامل تھے۔
حماس کے ہتھیاروں سے موازنہ
اسرائیلی فوج ابھی تک اس بات کا مطالعہ کر رہی ہے کہ اس بھاری مقدار میں ہتھیاروں سے کیسے نمٹا جائے، جو کہ غزہ میں آپریشن کے دوران دریافت ہونے والے لاکھوں ہتھیاروں اور گولہ بارود سے ہٹ کر ہے۔
اسلحے کے درمیان فرق موجود ہے کیونکہ حزب اللہ کے ہتھیار عام طور پر نئے، معیاری اور موثر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایران اور روس سے آتے ہیں، جبکہ حماس کے ہتھیار نسبتاً کم درجے کے ہیں۔
اسلحے کی مقدار پکڑے جانے کے باوجود اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ دعویٰ کرتی ہے اس کا اپنی افواج کو اے کے -47 یا راکٹ سے چلنے والے آر پی جی لانچروں سے لیس کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم قبضے میں لیا گیا اسلحہ عموما میدان جنگ میں استعمال کیا گیا۔
قابل ذکر نمائشوں میں ایرانی ساختہ 50 کیلیبر سنائپر رائفلیں شامل ہیں جو "تباہ کن جانی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں"۔ یہ آسٹرین سنائپر رائفلز کی نقل کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہیں۔ میڈیا کے سامنے ڈسپلے میں حزب اللہ کے ٹرکوں، کاروں اور ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں، جیپں اور بڑے چھوٹے ٹرکوں کے علاوہ میزائل لانچرز، طیارہ شکن میزائل اور بھاری موبائل لانچر ٹرک شامل ہیں۔
یہ پیش رفت لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کی نیتن یاہو کی منظوری کی خبروں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔