'حقیقی زندگی کی ہارر فلم': شمالی غزہ میں فلسطینیوں کا اپنی حالتِ زار کا بیان
لبنان میں جنگ بندی ہو گئی لیکن غزہ میں بمباری جاری
غزہ کے باشندوں نے پٹی کے شمال میں علاقے کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے انہیں "حقیقی زندگی کی ہارر مووی" قرار دیا۔ اگرچہ ہمسایہ ملک لبنان میں ایک روز قبل جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی فضائی حملے جاری تھے۔
اسرائیل نے حماس کو شمالی غزہ میں دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے چھے اکتوبر کو جبالیہ میں شدید فضائی اور زمینی کارروائی شروع کی اور پھر اسے بیت لاہیا تک وسیع کر دیا۔
بیت لاہیا سے تعلق رکھنے والی 52 سالہ اُمِ احمد لباد نے کہا، "ہم حقیقی زندگی کی ہارر فلم جی رہے ہیں، صورتِ حال ناقابلِ بیان ہے، اسرائیلی بمباری نہیں رک رہی، نہ فضائی نہ زمینی۔"
انہوں نے اے ایف پی کو فون پر بتایا، وہ اپنا گھر چھوڑنے سے خوفزدہ تھیں لیکن اگر اسرائیلی فوج نے لوگوں کو گھر خالی کرنے کو کہا تو وہ چلی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا، "ہمیں نہیں معلوم کہ ہم دراصل کہاں جائیں گے۔"
جبالیہ کیمپ سے وسطی غزہ کی پٹی میں آنے والے بے گھر شخص ابو محمد المدھون نے صورتِ حال کو "تباہ کن" قرار دیتے ہوئے کہا، "یہ ہر روز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بمباری نہیں رکتی۔"
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن غزہ میں حماس پر دباؤ "تیز" کرنے کا عزم کیا۔
حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ جمعرات کو پورے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہو گئے۔
شمال میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے وہاں کی صورتِ حال کو "افسوسناک اور انتہائی مشکل" قرار دیتے ہوئے کہا، "قبضہ (اسرائیل) علاقے میں کوئی چیز لانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے ہسپتال کے ارد گرد کے علاقے کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا ہے۔"
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینی سرزمین کے ہسپتال متعدد بار متأثر ہوئے ہیں۔
فوج نے جمعرات کو کہا کہ کمال عدوان اور العودہ ہسپتالوں سے 34 مریضوں کو غزہ میں محفوظ طبی سہولیات میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے ایکس پر کہا، "شمالی غزہ میں جاری فوجی آپریشن نے 130,000 افراد کو بے دخل کر دیا ہے۔"
انروا نے ایک علیحدہ پوسٹ میں کہا، "اندازاً تقریباً 65,000-75,000 لوگ بدستور شمالی غزہ میں موجود ہیں جن کے لیے وہاں بقا کے حالات مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔"
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی انتقامی مہم میں غزہ میں 44,330 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔