خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کا 45 واں اجلاس اتوار کے روز کویت کے دار الحکومت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے ضمن میں جنرل سکریٹریٹ کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں خلیجی ممالک کے بیچ مشترکہ عمل کے لیے سعودی فرماں روا شاہ سلمان کے ویژن پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔ سپریم کونسل نے دسمبر 2015 میں اپنے 36 ویں اجلاس میں اس ویژن کی منظوری دی تھی۔ ویژن میں اقتصادی یک جہتی اور مشترکہ دفاعی اور سیکورٹی نظام کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی یک جہتی اور استحکام کی مضبوطی، ان کے مفادات کا تحفظ، علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات سے گریز، عوامی امنگوں پر پورا اترنا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یکساں سیاسی مواقف کے ذریعے خلیج تعاون کونسل کے کردار کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے "سپریم کونسل" کے اختتامی بیان کے اہم موضوعات کو شائع کیا ہے۔ سپریم کونسل نے تعاون کونسل کے تمام ذیلی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ خادم حرمین شریفین کے ویژن پر عمل درآمد کے لیے بقیہ اقامات کی تکمیل کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا جائے۔
اسرائیلی جارحیت کی مذمت
سپریم کونسل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور وہاں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے اور جبری ہجرت پر مجبور کرنے کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر باور کرایا گیا کہ خلیج تعاون کونسل غزہ کی پٹی اور اس کے اطراف میں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ کونسل نے فوری اور مستقل فائر بندی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے روک دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرے اور فلسطینی عوام کے مصائب ختم کرنے کے علاوہ غزہ کی آبادی تک انسانی امداد کی وصولی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ سپریم کونسل کے مطابق بے قصور افراد کو نشانہ بنائے جانے اور غزہ کی پٹی میں ہزاروں شہریوں کے قتل کی جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، تمام ذمے داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ کونسل نے 21 نومبر 2024 کو عالمی فوج داری عدالت کی جانب سے جاری فیصلے کی خیر مقدم کیا۔ سپریم کونسل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے اپنے دفاع کے نام پر تمام جوازوں کو مسترد کر دیا۔ کونسل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت مطلوبہ اقدامات کرے۔ سپریم کونسل نے غزہ کی پٹی میں اجتماعی نسل کشی اور نسلی تطہیر کے مقصد سے اسرائیلی فوج کی جانب سے مرتکب خوف ناک جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس حوالے سے عالمی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن تشکیل دیا جائے، ان جرائم کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ، ان کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جائے اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی طور پر تحفظ فراہم کیا جائے۔
سپریم کونسل نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں رہائشی علاقوں، ہسپتالوں، اسکولوں، جامعات، مساجد، کلیساؤں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رہنے کی مذمت کی۔ اسی طرح غزہ کی پٹی میں انسانی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔
سپریم کونسل نے باور کرایا کہ وہ مشرق وسطی میں امن عمل کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے سعودی عرب ، یورپی یونین اور عرب لیگ کی کوششوں اور منصوبوں کی حمایت کرتی ہے۔
دیگر موضوعات
سپریم کونسل نے تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کوششوں اور کامیابیوں کو گراں قدر قرار دیا۔
اس موقع پر انسداد بد عنوانی کے حوالے سے شیخ تميم بن حمد آل ثانی بین الاقوامی ایوارڈ کو بھی سراہا گیا۔ سال 2016 میں متعارف ہونے کے بعد یہ ایوارڈ ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں انسداد بد عنوانی اور شفاف حکومتی انتظام کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرنے والے اداروں، تنظیموں اور شخصیات کو اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔
سپریم کونسل نے توانائی کی شکلوں میں اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے خلیجی ممالک کی مشترکہ کوششوں اور عمل کو فروغ دینے پر زور دیا۔ کونسل نے دبئی اور باکو میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں متفقہ دستاویزات پر عمل کے لیے مشترکہ ذمے داریوں کو احسن طور پر پورا کرنے پر زور دیا۔
سپریم کونسل نے توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام اور اس سلسلے میں متوازن روش اختیار کرنے کی اہمیت باور کرائی۔ کونسل نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے، اس کو دوبارہ استعمال کرنے، اس کی ری سائیکلنگ اور اس کے خاتمے کے سلسلے میں خلیجی ممالک کی کامیابیوں کو سراہا۔ اس میں گرین سعودی عرب اور گرین مڈل ایسٹ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
سپریم کونسل نے غذائی امن کے سلسلے میں پہلے عالمی سربراہ اجلاس کا بھی خیر مقدم کیا۔ یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زايد آل نہيان کی سرپرستی میں 26 سے 27 نوفمبر 2024 تک ابو ظبی میں منعقد ہوا۔
اسی طرح سپریم کونسل نے پانی کی کمیابی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے اور غذائی امن مضبوط بنانے کے لیے اماراتی منصوبوں کی تعریف کی۔ امارات کے "سقیا" منصوبے کے تحت 37 ممالک میں 1.5 کروڑ سے زیادہ افراد کے لیے پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا۔
سپریم کونسل نے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کے لیے 4 سے 5 نومبر 2024 کو منعقد ہونے والی اعلی سطح کی کانفرنس کی میزبانی پر کویت کو سراہا۔ کونسل نے باور کرایا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے اس کے فیصلے اور مواقف ٹھوس ہیں۔ کونسل دہشت گردی کی تمام صورتوں کی مذمت کرتی ہے اور اس کے تمام محرکات اور جوازوں کو مسترد کرتی ہے۔ اقوام کے بیچ رواداری اور باہمی بقا ان اہم ترین اقدار میں سے ہے جن پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے معاشرے مبنی ہیں۔
سپریم کونسل نے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کی۔ ساتھ باور کرایا گیا کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
سپریم کونسل نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے تعاون کونسل کے ممالک کی حکمت عملی اور اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر 2025 میں منی لانڈرنگ کے انسداد کے سلسلے میں خلیجی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔
سپریم کونسل نے ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور برادر و دوست ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے رکن ممالک کی خواہش کو دہرایا۔
سپریم کونسل نے باور کرایا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے زیر انتظام تین جزیروں (طنب الكبرى، طنب الصغرى، ابو موسى) پر ایران کے قبضے کی مذمت کے حوالے سے اپنے مواقف پر قائم ہے۔ مزید یہ کہ ان تینوں جزیروں پر امارات کو خود مختاری کا حق حاصل ہے۔
سپریم کونسل نے یہ بھی باور کرایا کہ سمندر میں واقع الدرہ فیلڈ پر صرف سعودی عرب اور کویت کا مشترکہ حق ہے۔ کونسل کسی بھی تیسرے فریق کی جانب سے اس فیلڈ اور اس کے قدرتی وسائل پر حق رکھنے کے دعوے کو مسترد کرتی ہے۔