ایران سے منسلک عراق کے طاقتور مسلح گروپ کتائب حزب اللہ نے بغداد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باغیوں کے تشدد کے خلاف دمشق حکومت کی حمایت کے لیے شام میں فوجی بھیجے۔
کتائب حزب اللہ نے پیر کو ایران نواز ٹیلی گرام چینلز پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں یہ اپیل کی۔ اس بیان کے اقتباسات گروپ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی پوسٹ کیے گئے تھے۔
انتہا پسندوں نے باغیانہ کارروائی میں شمالی شام کے شہر حلب پر قبضہ کر لیا ہے جس سے ہمسایہ ملک عراق کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ "محورِ مزاحمت" کے ایک حصے کتائب حزب اللہ کے ترجمان نے کہا، "گروپ نے ابھی تک اپنے ارکان تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن بغداد پر زور دیا کہ وہ کارروائی کرے۔"
ترجمان نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ عراقی حکومت کو شامی حکومت کے ساتھ مل کر باقاعدہ فوجی دستے بھیجنے کا اقدام کرنا چاہیے کیونکہ یہ گروپ عراق کی قومی سلامتی اور خطے کے لیے خطرہ ہیں۔"
کتائب حزب اللہ قبل ازیں شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار افواج کے ساتھ مل کر لڑتی رہی ہے۔
عراق میں یہ سابقہ نیم فوجی دستوں کے اتحاد حشد الشعبی کا حصہ ہے جو اب باقاعدہ مسلح افواج میں ضم ہو گیا ہے۔
عراقی وزیرِ اعظم کے زیرِ کمان یہ اتحاد عراق کی سرحدوں سے باہر کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔
عراق نفسیاتی اور جذباتی طور پر بدستور 2014 میں داعش کے عروج سے داغدار ہے جس کے دہشت گردوں نے 2017 میں شکست کھانے سے قبل ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
پیر کے روز عراق نے کہا کہ اس نے شام کے ساتھ اپنی 600 کلومیٹر (370 میل) طویل سرحد پر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھیجی تھیں۔
برطانیہ میں قائم جنگی نگراں ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے شام کے علاقے حلب میں حکومتی افواج کی حمایت میں تقریباً 200 ایران نواز عراقی جنگجوؤں کی تعیناتی کی اطلاع دی ہے۔