شام میں منگل کو شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان کشیدگی اپنی عروج پر رہی ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے ہیں۔
محاذ جنگ کی تازہ ترین پیشرفت میں العربیہ/الحدث نے شمالی حلب کے براہ راست اور خصوصی مناظر دکھائے ہیں جن میں دیہی علاقوں میں انفنٹری سکول پر مسلح دھڑوں کا کنٹرول دیکھا جا سکتا ہے۔
شام کی سرکاری ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ فوجی دستے حماۃ کے دیہی علاقوں میں دفاعی اور سپورٹ لائنز کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ مسلح دھڑوں کے خلاف جوابی حملہ شروع کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شامی فوج کے یونٹ شمال مغربی حماۃ کے دیہی علاقوں میں واقع قصبے خطب کے شمال اور مغرب میں مسلح دھڑوں کے ساتھ پرتشدد تصادم میں مصروف ہیں۔
اس سے پہلے شام کی عرب خبر رساں ایجنسی نے منگل کے روز کہا تھا کہ دیرالزور گورنری کے شمالی دیہی علاقوں میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے وابستہ فورسز کی طرف سے کیے گئے حملے میں فوجی یونٹس اور اتحادی فوج نے جواب دیا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ دیر الزور کے مشرق میں حکومتی فورسز اور ’ایس ڈی ایف‘ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ دیر الزور کے مشرق میں 7 دیہاتوں پر ایس ڈی ایف کا اب تک کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سیریئن آبزرویٹری نے مزید کہا کہ ایس ڈی ایف دیر الزور کے 7 دیہاتوں سے سرکاری افواج کو ہٹانے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہی ہے۔
سیریئن آبزرویٹری نے مزید کہا کہ حکومت کے وفادار قبائلی جنگجو دیر الزور کے مشرق میں ایس ڈی ایف سے لڑ رہے ہیں اور مسلح دھڑے اب حماۃ شہر سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ انہوں نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ حلب کے جنوبی اور مشرقی دیہی علاقوں میں پھنسے ہوئے بے گھر شہریوں کی طرف سے مدد کی اپیلوں کے بعد 40 روسی گاڑیاں جنگی علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے دیر الزور کے مشرقی دیہی علاقوں میں حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے 7 دیہات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ ایران نواز ملیشیا دیر الزور کے مشرقی دیہی علاقوں میں اپنی آخری پوزیشنوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
حماۃ کے دیہی علاقوں میں کئی محاذوں پر جھڑپیں جاری ہیں، جہاں پرتشدد جھڑپوں اور شدید روسی-شامی فضائی حملوں کے درمیان ھیۃ تحریر الشام اور دھڑے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تحریر الشام اور دیگر دھڑوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے جنگجو صبح سویرے سے ہی طیب الامام، حلفایا اور ماردیس کے قصبوں پر پیش قدمی اور کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
اس سے پہلے روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی تھی کہ روس نے شامی فوج کے ساتھ مل کر ادلب، حماۃ اور حلب میں مسلح دھڑوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ حملے کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شمالی شام میں تشدد میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لڑائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ لڑائی کے دوران نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کریں۔
-
شامی فوج اور اتحادی افواج کو دیر الزور میں ایس ڈی ایف فورسز کے حملے کا سامنا
لوگ حلب کے مضافاتی علاقوں سے فرار
بين الاقوامى -
شام کے واقعات کا مصر کی قومی سلامتی پر اثر پڑتا ہے: عسکری ماہر
مشرق وسطی -
شام میں پیشرفت، ٹرمپ کے لیے مشرق وسطیٰ کے منظر پر دوبارہ توجہ کا ایک موقع
شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے امریکہ کے لیے مساوات کو بدل دیا ہے جس نے برسوں ...
مشرق وسطی