غزہ میں قید کے دوران اب تک 33 اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ حالیہ 14 ماہ کے دوران مختلف واقعات کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ اس امر کا انکشاف حماس کی طرف سے پیر کے روز کیا گیا ہے۔
حماس نے اب تک غزہ میں قید یرغمالیوں کی ہلاکت کا بتایا ہے مگر یہ نہیں بتایا ہے کہ ان میں سے کتنے ہلاک شدہ یرغمالی دوہری شہریت کے حامل تھے ۔
واضح رہے ان یرغمالیوں کی رہائی اور زندہ واپسی کے لیے اسرائیلی فوج نے پورے 14 ماہ کے دوران بے شمار حملے اور جتن کیے ہیں۔ لیکن ان میں چند ایک لاشوں اور مشکل سے اکا دکا کو ہی چھڑوا سکی ہے۔
جو اسرائیلی یرغمالی باضابطے رہا ہوئے ہیں وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی سے ہی چھڑوائے جا سکے ہیں۔ اسرائیل نے اس سلسلے میں جنگی ہتھیاروں کے علاوہ اپنے تمام جدید اوزاروں بشمول ڈرون طیاروں اور سیٹلائٹس کا بھی استعمال کیا۔ اپنے اتحادیوں کی بھی ہر ممکن مدد لی لیکن انہیں رہا نہ کرا سکا ہے۔
اسی پس منظر میں بوکھلا کر اسرائیلی فوج اندھا دھند حملے اور بمباری کرتی رہی۔ جو ان 33 کی ہلاکت کا سبب بنتی رہی۔ خیال رہے اسرائیل کی طرف سے بطور وزیر دفاع اس غزہ جنگ کی حکمت عملی بنانے والے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے حال ہی میں کہا ہے کہ حماس کے ساتھ ڈیل کر کے اسے کچھ رعائتیں دے کر ہی یرغمالی رہا کرائے جا سکتے ہیں ، 'ویسے نہیں۔'