قطر نے خبردار کیا ہے کہ شام میں پیداشدہ خانہ جنگی کی صورت حال کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ جیسا کہ شامی حکومت اپوزیشن کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی عسکری اقدامات کی کوشش میں ہے۔
شام حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر اپوزیشن کے حملے اب دوسرے ہفتے کے قریب ہیں۔
خلیجی ریاست قطر جو بشارالاسد پر تنقید میں دوٹوک انداز اختیار کرتی ہے ۔ حتیٰ کہ بشارالاسد کی اقتدار میں بحالی کے بعد بھی قطر کا لہجہ شامی صدر کے لیے سخت ہے۔ اگرچہ کئی عرب ملک اسے اقتدار میں بحال کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز کیا ہے۔ قطر کے ترجمان نے کہا ہے کہ مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ نیز ان شہریوں کو امداد پہنچانے کی ضرورت ہے جو جنگ کا شکار بن رہے ہیں۔ مسئلے کا حل صرف سیاسی اور مذاکراتی راستے سے نکل سکتا ہے۔ اسی راستے سے شامی عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکتی ہے۔
ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس فوجی طاقت کے استعمال میں اضافہ کے نتائج سے شہریوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو کم کریں اور امداد کے لیے داخلے کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیں۔
ماجد الانصاری نے مزید کہا قطر نے الاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے انکار کر دیا ہے، اس کے باوجود کہ شام کے گزشتہ سال عرب لیگ میں دوبارہ شمولیت کی وجہ سے دیگر عرب ریاستوں کے ساتھ شام کے تعلقات بحال ہوگئے۔
واضح رہے 2011 میں بشارالاسد کی حکومت کی جانب سے ایک پرامن بغاوت کو کچلنے کے بعد قطر نے شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کی ابتدائی مدد کی۔ لیکن وزارت کے ترجمان نے تازہ ترین حملوں میں اپنے کسی فوجی کردار کی تردید کی ہے ۔
قطری ترجمان نے کہا ہم شام کے لوگوں کے ساتھ سیاسی اور انسانی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ سیاسی پہلو سے ہم شامی عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے خطے میں کسی بھی کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔
ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہفتے اور اتوار کو دوحا فورم میں شام کے ایشو پر اہم غیر ملکی کھلاڑیوں کے درمیان بات چیت کے منصوبوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ قطر اپنے دروازے بند نہیں کرے گا۔