اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انسانی حقوق کی مانیٹرنگ سے متعلق بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ سے متعلق مرتب کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ایمنسٹی کی یہ رپورٹ منگل کے روز پیش کی گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی رہنما نسل کشی کے اس ارتکاب کی تردید کرتے ہیں۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا ہے' کئی ماہ کے واقعات اور اسرائیلی عہدے داروں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد ایمنسٹی نے کہا' ایک منظم جنگ کے دوران پورے عزم کے ساتھ جرم کی قانونی حد پوری ہو چکی ہے۔'

ایمنسٹی کے مطابق نسل کشی کنونشن جسے ہولوکاسٹ کے بعد 1948 میں نافذ کیا تھا۔ اس میں نسل کشی کی تعریف کر دی گئی ہے کہ ' قومی، نسلی، نسلی یا مذہبی طبقوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کیے جانے والے اقدامات نسل کشی کے ذمرے میں آتے ہیں۔'

تاہم اسرائیل اگرچہ نسل کشی کے ان واقعات کے باوجود ان کی مکمل تردید کرتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے اس نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا ہے اور سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ لیکن اسرائیلی حکام سے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کے حوالے سے فوری طور پر تبصرہ ابھی نہیں کیا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے غزہ کی اب تک کی جنگ کے دوران 44532 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان قتل کیے گئے غزہ کے فلسطینیوں میں بڑی تعداد بچوں اور گھریلوعورتوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں