اسرائیلی فوج نے تسلیم کر لیا ہے کہ اگست میں جن چھ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں غزہ سے نکال لے جانے میں 'کامیابی' ملی تھی وہ یرغمالی ممکنہ طور اسرائیلی فوج کی اپنی ہی بمباری سے ہلاک ہوئے تھے۔ غزہ کے جس علاقے میں اسرائیلی فوج بمباری کر رہی تھی اسی علاقے میں ان اسرائیلی یرغمالیوں کو قید رکھا گیا تھا۔
یہ اعتراف اسرائیلی فوج کی طرف سے بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنی تمام تر انٹیلی جنس کی سہولتوں اور مہارتوں کے علاوہ تکنیکی آلات کے باوجود ان تحقیقات پر تین سے چار ماہ لگا دیے ہیں۔
فوج کے بیان میں کہا گیا ہے ' بمباری کے وقت ہمارے پاس کوئی اطلاع نہیں تھی، فوج کو نہ صرف یہ کہ خبر نہ تھی کہ اسی علاقے میں یرغمالی بھی رکھے گئے ہیں بلکہ ایسا شک یا گمان بھی نہ تھا کہ اسرائیلی شہریوں کو اسی زیر زمین کمپاؤنڈ میں یا اس کے آس پاس ہی چھپایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بدھ کےروز جاری کردہ بیان میں مزید کہا ہے کہ 'اگر فوج کے پاس اس امر کی معلومات ہوتیں تو اس علاقے میں کبھی بھی بمباری نہ کی جاتی۔
'اس لیے یہی ہوا کہ چھ اسرائیلی یرغمالیوں کی ہلاکت ہماری اپنی بمباری سے ہو گئیں۔ کیونکہ اسی جگہ جہاں یہ موجود تھے بمباری کی گئی تھی۔' تاہم اسرائیلی فوج نے اتنے ماہ تک تحقیقات کرنے اور تمام تر انٹیلی جنس معلومات کے فراہم کیے جانے کے باوجود حقیقت کو کنفیوز کرنے کی کوشش کی ہے۔
واضح رہے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس کی بنیاد پر اسرائیلی فوج کی کوششوں کے علاوہ اس کے کئی اہم اتحادی ملکوں کی تکنیکی مہارت اور اہلیت پر مبنی عملی تعاون شروع سے اسرائیل کو حاصل رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بمباری کے وقت جنگجوؤں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے ہی قتل کیے جا چکے ہوں اور وہ ہلاکت کے بعد اس روز کی بمباری سے نشانہ بن گئے ہوں
بیان میں اسرائیلی فوج نے تحقیات میں اس تاخیر کا خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ' اتنا زیادہ وقت گزرنے کے بعد یہ واضح طور پر تعین کرنا ممکن نہیں ہے یرغمالیوں کی موت کا اصل وقت کیا تھا اور فائرنگ کا وقت کیا تھا۔'
یرغمالیوں اور لاپتہ اسرائیلیوں کے خاندانوں کے فورم کا مرکزی دفتر جو 100 سے زائد یرغمالیوں کی زندہ واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ فورم اب بھی یقین رکھتا ہے کی یرغمالی غزہ میں قید ہیں۔ اس لیے ان کی زندگیوں کو ہر روز خطرہ رہتا ہے۔
واضح رہے سات اکتوبر 2023 سے اب تک شاید ہی کوئی دن گزرا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوج نے بمباری نہ کی ہو، بمباری کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ، اس لیے یرغمالیوں کی جانوں کو خطرات میں کمی نہیں ہوئی بلکہ بڑھے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے جمعہ چھ دسمبر 2024 کو پورے 14 ماہ ہو جائیں گے۔
14 ماہ سے ہی یہ یرغمالی غزہ میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی قید میں ہیں۔ سوائے ان یرغمالیوں کے جنہیں پچھلے سال نومبر میں اسرائیل نے حماس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت رہا کرایا تھا۔