حماس کے ہاتھوں گذشتہ سات اکتوبر2023ء کے حملے کے دن جنگی قیدی بنائے گئے 101 یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اپنی جنگ میں قیدیوں کے اہل خانہ نے "مصنوعی ذہانت" کا پروگرام استعمال کرتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی ہے جسے انھوں نے بدھ کو سوشل میڈیا پر نشر کیا۔ اس ویڈیو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا بیٹا یائر غزہ میں سرنگ میں ایک قیدی دکھایا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ویڈیو میں یائرنیتن یاھو یہ کہلوایا گیا ہے کہ "میرے والد، میری ماں، مجھے صرف آپ ہی آزاد کر سکتے ہیں"۔
یائرجس کی عمر 33 سال ہے امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقے میامی اپنی ایک دوست کے ساتھ دو سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پروگرام سے تیار کی گئی ویڈیو میں یائرکو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے"میں یہاں حماس کی قید میں ہوں، مجھے کوئی خوراک یا پانی نہیں مل رہا ہے۔ یہاں میں سورج دیکھ سکتا ہوں نہ ہی ہوا میں سانس لے سکتا ہوں۔ کیونکہ میرےچاروں طرف حماس کے لوگ میری نگرانی کررہے ہیں۔ مجھے اسرائیلی حملوں سے بچانا ہے اور اب جب کہ شمال میں جنگ بندی ہو گئی ہے (حزب اللہ کے ساتھ) یہ ہمیں آزاد کرنے کا وقت ہے‘‘۔
یائر نے مزید کہا کہ کہا کہ "میں یہاں تمام چینلز پر پولز دیکھتا ہوں اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ڈیل چاہتے ہیں۔ براہ کرم مجھے یاد رکھیں، براہ کرم سب کچھ کریں۔ مجھے اپنی آزادی، آپ اور ایونر کی کمی محسوس ہوتی ہے‘‘۔وہ اپنے تین سال چھوٹے بھائی کا حوالہ دے رہے تھے۔
انہوں نے "مصنوعی ذہانت" کے الفاظ میں کہاکہ "میں گھر واپس آنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، ویڈیو کے آخر میں اہل خانہ نے نیتن یاہو کے مغوی کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر نیتن یاھو کا اپنا بیٹا اغوا ہوا ہوتا تو آج ہمارے بچے بھی اپنے گھروں میں ہوتے‘‘۔