شام میں محاذ گرم، اسرائیل نے گولان میں مزید افواج تعینات کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت اور فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان محاذ آرائی کی روشنی میں اسرائیل نے اپنی زیادہ افواج کو شام کی گولان کی پہاڑیوں میں طلب کرلیا۔ اسرائیل نے 1967 سے گولان پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے شام کی سرحد کے قریب گولان کی پہاڑیوں میں اضافی فورسز کو تعینات کر دیا ہے تاکہ خطے میں دفاع کو مضبوط کیا جا سکے اور مختلف حالات کے لیے تیاری کی جا سکے۔

گزشتہ روز اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے اور شام کی پیش رفت کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔ کاٹز نے مزید کہا کہ فوج کسی بھی منظر نامے کے لیے اور اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

یہ اس وقت ہوا جب مسلح دھڑوں کی تیزی سے پیش قدمی کی اور شام کی مسلح افواج نے بغیر کسی مزاحمت کے کئی مقامات سے پسپائی اختیار کرلی ہے۔ اس پیش رفت پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں حیرانی کا ماحول ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کی صورت حال کے جائزے میں دمشق کے جلد گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے سے مسلح دھڑوں نے حلب پر ادلب سے اچانک حملہ کیا۔ اسے مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا،۔ پھر حماۃ پر قبضہ کیا اور حمص کے شمالی حصے میں داخل ہو کر اسے بھی کنٹرول کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسی وقت مقامی مسلح دھڑوں نے جنوب میں درعا کا کنٹرول سنبھال لیا اور اردن کے ساتھ نصیب سرحدی کراسنگ پر قبضہ کر لیا۔

مقامی دھڑوں نے السویدا شہر پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ وہ شامی فوج سے تعلق رکھنے والے پولیس ہیڈکوارٹر اور دیگر فوجی مقامات میں داخل ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں