شام میں مسلح دھڑوں کے حملے اور قبضہ: دمشق پر اضطرابی کیفیت حاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک طالبِ علم شادی نے کئی دیگر لوگوں کی طرح گھر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ باہر کے حالات و واقعات سے باخبر رہ سکیں کیونکہ گذشتہ ہفتے سے مسلح دھڑوں نے غیر متوقع طور پر شام کے بعض شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے والے شادی نے کہا، "میری باہر جانے کی کوئی خواہش نہیں تھی اور ہر ایک نے اپنے عزیزوں سے متعلق خبروں سے باخبر رہنے کے لیےگھر پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔"

چونکہ مسلح دھڑوں نے یکے بعد دیگرے شہروں پر قبضہ کر لیا ہے تو کئی شامی باشندے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئے ہیں اور انہیں 14 سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بدترین دنوں کے دوبارہ شروع ہو جانے کا خدشہ ہے۔

نوجوان نے کہا، "اب ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ صرف ایک ہفتے میں حالات میں اتنے قوی اور زبردست موڑ آئے ہیں جو ہر طرح سے سمجھ سے بالاتر ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر پریشان ہیں لیکن ہمیں پرسکون رہنا ہوگا۔" انہوں نے ایک بار بھی اپنے موبائل فون پر انتباہات سے نظریں نہیں ہٹائیں۔

حکومتی افواج نے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی ہے لیکن ملک کے دیگر حصوں پر انہیں اپنی گرفت کم کرنا پڑی ہے خاص طور پر مشرق جہاں کردوں کے زیرِ قیادت افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔

دارالحکومت کے شیخ سعد محلے میں پرچون کی دکان چلانے والے 56 سالہ امین نے کہا، "جب بھی افواہیں پھیلتی ہیں تو لوگ مختلف مصنوعات، روٹی، چاول، چینی اور ڈٹرجنٹ خریدنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ آج میں نے گاہکوں کی طلب پوری کرنے کے لیے اپنے تھوک فروش سے دو بار سامان خریدا۔"

شامی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں 19,000 کی اب تک کی کم ترین سطح پر ہے جو گذشتہ ہفتے کے بدھ کو باغیوں کے حملے سے پہلے 15,000 پر تھا۔

رہائشیوں کے مطابق حفاظتی اقدامات جو جارحیت سے پہلے ہی سخت تھے - کو گاڑیوں کی اضافی تلاشی کے ساتھ مزید سخت کر دیا گیا ہے بالخصوص دارالحکومت کے باہر سے آنے والی گاڑیوں کی۔

غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

شام کی وزارتِ دفاع نے "جھوٹی اور خودساختہ" ویڈیوز کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "جھوٹی خبروں" کا شکار نہ ہوں جن کا مقصد "شہریوں میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔" ان میں جنرل سٹاف کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے دھماکوں کی وڈیو بھی شامل ہے۔

باب شرقی کے عموماً رواں دواں اور بارونق محلے میں ریستوراں اور کیفے شام کے وقت تقریباً ویران ہو جاتے ہیں جبکہ بعض تو گاہکوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے جلدی بند ہو جاتے ہیں۔

دمشق یونیورسٹی نے اختتامی امتحانات مؤخر اور شامی فٹ بال فیڈریشن نے اگلے نوٹس تک اپنے میچز ملتوی کر دیئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی کہ نمازِ جمعہ میں اماموں نے مومنین سے " نہ گھبرانے اور وطن کے دفاع کے لیے شامی عرب فوج کے پیچھے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی۔"

32 سالہ جارجینا نے کہا کہ انہوں نے "بہت سی افواہیں سنی تھیں۔"

انہوں نے کہا، "میں قدیم دمشق گئی اور وہاں معمول کی صورتِ حال دیکھی۔"

دریں اثناء کچھ ریڈیو سٹیشن مختلف قسم کے پروگرامنگ سے اب مسلسل خبروں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر پروگراموں میں تجزیہ کاروں اور گواہان بشمول ان لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جو پیش قدمی کرنے والے باغیوں کے ہاتھوں تازہ علاقائی نقصانات کی "افواہوں" کی تردید کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size