شامی باغیوں کے دارالحکومت دمشق پر قبضے اور صدر بشار الاسد کی اقتدار سے معزولی کے بارے میں بند کمرے میں سلامتی کونسل کا ایک اجلاس ہوا جس کے بعد پیر کو امریکی اور روسی سفارت کاروں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان آئندہ دنوں میں شام کے بارے میں ایک بیان پر کام کریں گے۔
اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر وسیلی نیبنزیا نے 15 رکنی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا، "شام کی علاقائی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ کی ضرورت پر، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد ضرورت مند آبادی تک پہنچ رہی ہو، میرے خیال میں کونسل ان معاملات پر کم و بیش متحد تھی۔"
نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈ نے تصدیق کی کہ زیادہ تر اراکین نے اِن مسائل کے بارے میں بات کی اور صحافیوں کو بتایا کہ کونسل ایک بیان پر کام کرے گی۔ امریکہ دسمبر کے لیے کونسل کا صدر ہے۔
ووڈ نے کہا، "یہ شامی عوام کے لیے ایک ناقابلِ یقین لمحہ ہے۔ اب ہم واقعی یہ دیکھنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ صورتِ حال کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ کیا شام میں کوئی ایسی گورننگ اتھارٹی ہو سکتی ہے جو شامی آبادی کے حقوق اور وقار کا احترام کرے؟"
اقوام متحدہ میں شام کے سفیر قصی الضحاک نے کونسل کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ان کے مشن اور بیرونِ ملک شام کے تمام سفارت خانوں کو اپنا کام جاری رکھنے اور اقتدار کی منتقلی کے دور میں ریاستی ادارہ برقرار رکھنے کی ہدایات موصول ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا، "اب ہمیں نئی حکومت کا انتظار ہے لیکن اس دوران ہم موجودہ حکومت اور قیادت کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اسد کے مقرر کردہ شام کے وزیرِ خارجہ بسام الصباغ بدستور دمشق میں تھے۔
انہوں نے کہا، "ہم شامی عوام کے ساتھ ہیں۔ ہم شامی عوام کا دفاع اور ان کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ اس لیے ہم تا حکمِ ثانی اپنا کام جاری رکھیں گے۔ شامی عوام آزادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت پر مبنی ریاست کے قیام کے منتظر ہیں اور ہم اپنے ملک کی تعمیر نو، جو تباہ ہو گیا ہے اس کی تعمیر نو اور شام کے بہتر مستقبل کی تعمیرِ نو کے لیے کوششوں میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔"
نیبنزیا اور ووڈ دونوں نے اس بارے میں بات کی کہ شام میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے واقعات کتنے غیر متوقع تھے۔
نیبینزیا نے کہا، "ہر کوئی حیران رہ گیا، ہر کوئی بشمول کونسل کے اراکین۔ اس لیے ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا اور اس بات کا اندازہ لگانا ہو گا کہ صورتِ حال کیا رخ اختیار کرے گی۔"
روس نے جنگ کے دوران اپنے اتحادی اسد کو سفارتی طور پر تحفظ فراہم کیا ہے اور کئی مواقع پر چین کی حمایت سے سلامتی کونسل میں ایک درجن سے زیادہ ویٹو کیے ہیں۔ 15 رکنی کونسل شام کے سیاسی اور انسانی حالات اور کیمیائی ہتھیاروں پر جنگ کے دوران ایک ماہ میں کئی بار اجلاس کرتی رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے کونسل کے اجلاس کے بعد کہا، "صورتِ حال کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور ایک جامع سیاسی عمل ہو اور ساتھ ہی دہشت گرد قوتیں دوبارہ سر نہ اٹھائیں۔"