اگرچہ امریکا نے "تحریر الشام" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے بالواسطہ طور پر تنظیم سے رابطہ کیا۔ تنظیم کے قائد احمد الشرع ہیں جو ماضی میں "ابو محمد الجولانی" کے نام سے جانے جاتے تھے۔ تنظیم نے دیگر مسلح گروپوں کے ساتھ مل کر آٹھ دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام کا کنٹرول سنبھال لیا۔
دو امریکی ذمے داران اور کانگریس میں ایک معاون نے جو تحریر الشام تنظیم کے ساتھ امریکا کے ابتدائی رابطوں سے مطلع ہیں، انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے تنظیم پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کو ما تحت بنا کر اس کی قیادت نہ کرے بلکہ عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے ایک جامع عملی انتظامیہ بنائے۔
مذکورہ ذرائع کے مطابق تحریر الشام تنظیم کے ساتھ رابطے جن وساطت کاروں کے ذریعے ہوئے ان میں ترکی اور خطے میں واشنگٹن کے دیگر اتحادی شامل ہیں۔
عبوری حکومت
تحریر الشام تنظیم نے محمد البشیر کو عبوری حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی ہے جو چار ماہ یعنی مارچ 2025 تک ملک چلائے گی۔ اس موقع پر البشیر نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شامیوں کو "استحکام اور سکون" کی نعمت حاصل ہو۔ البشیر کے مطابق ان کی حکومت نے گذشتہ حکومت سے اختیارات کی منتقلی پر کام شروع کر دیا ہے۔
با خبر ذرائع کے مطابق "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" شامی فوج اور سیکورٹی اداروں کی از سر نو تشکیل انجام دے گی۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک شام میں سیاسی منتقلی کے عمل کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ے کہ اس عمل کے نتیجے میں ایک قابل اعتماد، جامع اور غیر فرقہ ورانہ حکومت وجود میں آئے۔ انھوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اس عمل سے سامنے آنے والی مستقبل کی شامی حکومت کو تسلیم کرے گا اور پوری طرح سپورٹ کرے گا۔