شامی حزبِ اختلاف کے ہاتھوں معزول حکومت کا منشیات کا کاروبار بے نقاب

بڑی مقدار میں کیپٹاگون گولیاں ضائع کر دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے ڈرامائی خاتمے سے ان کی حکمرانی کے تاریک گوشے روشن ہو گئے ہیں جس میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی پیمانے پر برآمد بھی شامل ہے۔

فاتح حزبِ اختلاف کے باغیوں نے ایمفیٹامین کے لیے استعمال ہونے والے فوجی مقامات اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہان سے شرقِ اوسط کے طول و عرض میں منشیات فراہم کی جاتی ہیں۔

"ھیئۃ تحریر الشام" (ایچ ٹی ایس) کی سربراہی میں گروپ نے کہا ہے کہ اسے منشیات کا ایک بڑا ذخیرہ ملا ہے اور اس نے انہیں تباہ کرنے کا عزم کیا ہے۔

بدھ کے روز گروپ نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کان کے گودام میں جانے کی اجازت دی جہاں برآمد کے لیے کیپٹاگون گولیاں برقی آلات کے اندر چھپائی گئی تھیں۔

سیاہ نقاب پوش باغی ابو مالک الشامی نے کہا کہ جب ہم اندر داخل ہوئے اور تلاشی لی تو معلوم ہوا کہ یہ ماہرُ الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی فیکٹری تھی۔

گھریلو برقی آلات میں منشیات چھپائی گئیں

ماہر الاسد ایک فوجی کمانڈر اور معزول طاقتور حکمران بشار الاسد کا بھائی تھا جو اب مفرور سمجھا جاتا ہے۔ کیپٹاگون کی منافع بخش تجارت میں بڑے پیمانے پر اسی کے ملوث ہونے کا الزام ہے۔

شامی سیاستدان خیتی کو 2023 میں برطانوی حکومت نے "منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ میں سہولت کاری" کے باعث پابندی کے تحت رکھا تھا۔

گودام کے نیچے ایک غار نما گیراج میں ہزاروں کیپٹاگون گولیاں بالکل نئے گھریلو وولٹیج سٹیبلائزرز کے تانبے کی تاروں میں بھری ہوئی تھیں۔

شامی نے کہا، "ہمیں بڑی تعداد میں ایسے آلات ملے جن میں کیپٹاگون گولیوں کے پیکٹ بھرے ہوئے تھے جنہیں ملک سے باہر سمگل کیا جانا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی مقدار ہے۔"

اوپر گودام میں گتے کے ڈبوں کے کریٹس تیار کھڑے تھے تاکہ سمگلر اپنا مال معیاری برقی آلات کے ساتھ چھپا کر لے جا سکیں۔

کیپٹاگون نے شام کو دنیا میں منشیات سمگلنگ کی سب سے بڑی ریاست بنا دیا۔ 2022 کی تحقیقات کے دوران اے ایف پی کے سرکاری اعداد و شمار سے حاصل کردہ تخمینوں کے مطابق یہ شام کی اب تک کی سب سے بڑی برآمد بن گئی جو اس کی مجموعی قانونی برآمدات سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ الاسد نے عرب حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے منشیات سے پیدا ہونے والی بدامنی کے خطرے کو استعمال کیا۔

کیپٹاگون نے امیر خلیجی ریاستوں میں منشیات کے استعمال کی وبا کو ہوا دی۔

'بہت بڑی مقدار'

گودام سے ملنے والی مقدار بہت زیادہ تھی لیکن ماہر الاسد کی کمان کے تحت فوجی یونٹوں سے کم مقدار بھی برآمد ہوئی۔

شمال سے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کرنے والی باغی افواج بڑی تعداد میں گولیاں جلا کر ضائع کر دیں۔

فضائیہ کی تباہ شدہ عمارت میں نامردی کے علاج والی ویاگرا بھی برآمد ہوئی۔

خطاب نامی ایک باغی نے کہا، "جب ہم علاقے میں داخل ہوئے تو ہمیں کیپٹاگون کی ایک بڑی مقدار ملی۔ چنانچہ ہم نے اسے تباہ کر کے جلا دیا۔ یہ فطرت اور انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایچ ٹی ایس منشیات برآمد کر کے اپنے ہمسایہ ممالک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی جس کی تجارت اربوں ڈالر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں