ایک قطری سفارت کار نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد قطر کا ایک وفد اتوار کو شام کا دورہ کرنے والا ہے جو وہاں شام کی عبوری حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔
اس دورے کی حساسیت کی بنا پر سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "قطری وفد کا شام کا پہلا دورہ اتوار کو متوقع ہے جہاں وہ سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے اور امداد کی ترسیل میں اضافے پر تبادلۂ خیال کریں گے۔"
جولائی 2011 میں الاسد حکومت کے خلاف بغاوت کے خانہ جنگی میں تبدیل ہو جانے کے بعد دوحہ نے دمشق میں اپنا سفارتی مشن بند کر دیا اور اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔
سفارت کار نے کہا کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کے اہلکار اس وفد میں شامل ہوں گے اور انہوں نے "قطری انٹیلی جنس چیف کے دمشق کے سابقہ دورے کے بارے میں اطلاعات کو غلط" قرار دیا۔
معاملے سے واقف ایک اہلکار نے اس ہفتے پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ قطر نے الاسد حکومت کو معزول کرنے والی ملٹری آپریشنز ایڈمنسٹریشن کے ساتھ "رابطے کا پہلا چینل" قائم کیا تھا۔
اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر مزید کہا، "اقتدار کی منتقلی کے دوران امن و امان برقرار اور شام کے ادارے محفوظ رکھنے [ملٹری آپریشنز ایڈمنسٹریشن] اور دیگر کے ساتھ رابطے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔"
قطر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ "ضروری انتظامات مکمل کرنے کے بعد" جلد ہی شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں کہا، "اس اقدام کا مقصد "دونوں ممالک کے درمیان قریبی تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانا" ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر ایک فضائی پل کے ذریعے "شامی عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے" اقدامات کرے گا۔