غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے نئے متوقع معاہدے کے بارے میں بحث شروع ہونے کے بعد ایک رائے عامہ کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 72 فیصد اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔
اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق لیکود ووٹروں میں سے 56 فیصد نے ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔42 فیصد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیتن یاہو کی گواہی ملتوی کرنے کی درخواستوں کو منظور نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 41 فیصد کے مطابق عدالت کو درخواستوں کو منظور کر لینا چاہیے تھا۔
33 یرغمالی مارے گئے
امریکی نیٹ ورک "این بی سی نیوز" کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ جمعہ کو انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات اور قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے دوران حماس کے دو بڑے مسائل پر پیچھے ہٹنے میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دباؤ ایک بڑا عنصر تھا۔ .
حکام، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کے مطابق حماس نے اب لڑائی ختم ہونے کے بعد اسرائیلی افواج کو عارضی طور پر غزہ کی پٹی میں رہنے اور امریکیوں سمیت یرغمالیوں کی مکمل فہرست فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مذاکرات ناکام
واضح رہے مذاکرات کے گزشتہ ادوار جو قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی میں ہوئے تھے میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی نہیں ہوسکی تھی تاہم حال ہی میں لبنان اور شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے امید بڑھی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ پیش رفت ہو رہی ہے۔
اسرائیلی یرغمالی
اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں 100 قیدیوں کو حراست میں لیا ہے۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ ان میں سے درجنوں یرغمالی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تباہ حال فلسطینی پٹی میں جنگ کے دوران 33 قیدی مارے گئے۔ حماس نے دسمبر کے اوائل میں غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی فوجی آپریشن کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا۔