غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کے لیے ٹیم دوحا پہنچ گئی ہے: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں اسرائیلی جنگ کو روکنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ مذاکرات قطری دارالحکومت دوحا میں شروع ہو رہے ہیں جہاں پر اسرائیل کی ٹیکنیکل ٹیم پیر کے روز پہنچ گئی ہے۔

اسرائیلی حکام نے 'روئٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی دوحا میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق دوحا میں مذاکرات کا محور امریکی صدر جوبائیڈن کے 31 مئی کے فارمولے کے مطابق جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ہے۔ اس سلسلے میں مصر، قطر اور امریکہ کی طرف سے پچھلے 6 ماہ کے دوران وقفے وقفے سے کوششیں ہوتی رہی ہیں۔

تاہم اسرائیل نے بمباری اور حماس قیادت کو ٹارگٹ کر کے قتل کرنے کے واقعات کو مسلسل جاری رکھا اور پہلے سے طے شدہ نکات کے بجائے نئی تجاویز پر مذاکرات کی کوشش کی جس کی وجہ سے معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔

تاہم پچھلے چند ہفتوں میں دوبارہ سے مذاکراتی عمل میں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔


قطر اور مصر کی ثالثی میں اکتوبر 2023 سے ہی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا تحادی اور غزہ جنگ میں اسلحہ کا سب سے بڑا سپلائر ہے مگر اس نے بھی اپنے آپ کو ایک ثالث کے طور پر اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔

پچھلی مذاکراتی نشست میں اسرائیل کے ان مطالبات کے بعد عدم اتفاق ہوگیا تھا۔ جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں اپنی فوج کو موجود رکھے گا۔

یہ اسرائیلی تجویز ماہ مئی سے متصل ہونے والے اتفاق سے برعکس تھی۔ جس کی وجہ سے حماس نے مذاکراتی عمل کو بار بار کی نئی تجاویز کی وجہ سے بےفائدہ قرار دے دیا۔

خیال رہے اسرائیل میں حالیہ سرویز کے دوران 72 فیصد اسرائیلی شہری اس بات کے حامی ہیں کہ نیتن یاہو حکومت حماس کے ساتھ معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائے۔

اگرچہ اسرائیل کا پیٹرن یہ ہے کہ جب مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں کوئی بڑی کارروائی کر دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں