بیت المقدس: اسرائیلی انتظامیہ نے فلسطینی املاک منہدم کر دی
سلوان کے رہائشی کسی صورت علاقہ چھوڑنے پر راضی نہیں
تھکے ہارے اور غمزدہ فلسطینی کارکن فخری ابو دیاب اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم میں اپنے گھر کے ملبے کے درمیان کھڑے تھے جو قدیم شہر کے مشہور گنبدوں سے کچھ فاصلے پر واقع ایک تنگ وادی ہے۔
نومبر کے اوائل میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ بلدیہ یروشلم کے بلڈوزروں نے ممنوعہ تعمیر قرار دیتے ہوئے سلوان محلے میں ان کا گھر دوسری بار مسمار کر دیا۔
"وہ ہمیں علاقے سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں،" 62 سالہ بزرگ نے کہا جنہوں نے سلوان کے البستان علاقے میں مسماری کے خلاف مظاہرے ترتیب دیئے ہیں۔
اجازت نامے کے بغیر تعمیر کردہ گھروں کی تباہی نے مشرقی یروشلم اور باقی مقبوضہ مغربی کنارے کو برسوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے بارے میں مہم کار کہتے ہیں کہ اسرائیل نے منصوبہ بندی کی جو بندشی پالیسی اخٹیار کر رکھی ہے، اس کی وجہ سے فلسطینیوں کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔
ابو دیاب کا گھر ان تقریباً 115 فلسطینی رہائشی املاک میں شامل تھا جنہیں بلدیہ یروشلم نے مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا تھا جو شہر کے یہودی اکثریتی مغربی حصے اور فلسطینی اکثریتی مشرق حصے دونوں کو کنٹرول کرتی ہے۔
ابو دیاب نے اے ایف پی کو بتایا، "وہ ہماری موجودگی کو مٹانا اور ہمیں باہر نکال دینا چاہتے ہیں لیکن ہم البستان میں رہیں گے خواہ خیمے میں یا درخت کے نیچے۔"
بلدیہ نے کہا ہے کہ اس کا مقصد "غیر قانونی تعمیرات، محلے کے رہائشیوں کے لیے مناسب انفراسٹرکچر اور نئی عوامی عمارات کی تعمیر کی اجازت" کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ سبز جگہ پیدا کرنا ہے۔
لیکن اسرائیلی حقوق کے گروپ اِر عمیم نے کہا کہ اسرائیلی حکام اکثر مشرقی یروشلم کے علاقوں کو قومی پارک یا کھلی جگہ قرار دے کر ان کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
انہدام کے خلاف لڑنے والے گروپ نے کہا کہ یہ طریقہ فلسطینی ترقی کو "دبانے کے لیے وضع" کیا گیا ہے "جبکہ یہ اسرائیلی مفادات کے لیے ان کی زمینوں پر قبضے کو ممکن بناتا ہے۔"
'مجھے تھکا دیا'
اسرائیل-فلسطین تنازع میں یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ ترین مسئلہ ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں قدیم شہر سمیت مشرقی یروشلم کو فتح کیا اور تیزی سے اس علاقے کو اپنے ساتھ الحاق کر لیا۔
سلوان قدیم شہر کی دیواروں کے دامن سے شروع ہوتا ہے جہاں بائبل کے مطابق شہرِ حضرتِ داؤد واقع تھا۔
آج سینکڑوں اسرائیلی آباد کار سلوان میں تقریباً 50,000 فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں۔
چھتوں اور کھڑکیوں کے ساتھ لہراتے اسرائیلی پرچموں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ نصب حفاظتی کیمروں کے ہمراہ آباد کاروں کے گھر ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔
دریں اثناء مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو مکانات کے بحران کا سامنا ہے جو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے درمیان اجازت کے بغیر مکانات تعمیر کرنے سے قاصر ہیں۔
ابو دیاب کا گھر سب سے پہلے فروری میں مسمار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے دوبارہ بنایا لیکن نومبر میں دوبارہ تباہ کر دیا گیا۔
بظاہر تھکے ہوئے دیاب نے کہا، "اس بار انہوں نے مجھے تھکا دیا۔ اصل گھر 1950 کے عشرے میں بنایا گیا تھا۔ میں یہاں پیدا ہوا، پرورش پائی، شادی کی اور اپنے بچوں کی پرورش بھی یہیں کی۔
لیکن اب ابو دیاب نے کہا، "حتیٰ کہ میرے بچوں کو بھی سلوان سے باہر کرائے پر مکان لینا پڑا۔"
اب اپنے منہدم گھر کے برابر میں ابو دیاب ایک کارواں میں رہتے ہیں۔ وہ بھی انہدام کے خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے اور ان کے بعض ہمسایوں نے بلدیہ کی جانب سے شمالی یروشلم کے دوسرے فلسطینی محلے میں منتقل ہونے کی پیشکش مسترد کر دی۔
ابو دیاب کے گھر کے کھنڈرات کے قریب 42 سالہ مزدور عمر الرویدی اپنے بیٹے کے ساتھ آگ کے پاس بیٹھے تھے جس کے گرد ان کے اپنے اور چار بھائیوں کے منہدم گھروں کا ملبہ بکھرا پڑا تھا۔
تھکن سے بوجھل آواز میں انہوں نے کہا، "12 بچوں سمیت 30 کے قریب لوگ اب بے گھر ہیں۔"
رویدی نے کہا، "ہم 2004 سے عدالت میں مقدمہ لڑ رہے ہیں اور دسیوں ہزار (اسرائیلی شیکل) خرچ کر چکے ہیں لیکن بے سود۔"
انہدام کے احکامات وصول کرنے والے کئی خاندانوں نے انتقام کے خوف کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
'محفوظ جگہ'
اِر عمیم کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مشرقی یروشلم میں مسماری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
گروپ نے بتایا کہ جنوری اور نومبر 2024 کے درمیان پورے علاقے میں 154 مکانات مسمار کیے گئے۔
13 نومبر کو بلڈوزروں نے البستان ایسوسی ایشن کا کمیونٹی سینٹر تباہ کر دیا جس کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ 1,500 فلسطینی باشندوں کے لیے خدمات انجام دیتی تھی جن میں زیادہ تر نوعمر تھے۔
ڈائریکٹر قطیبہ عودہ نے کہا، "ایسوسی ایشن اپنے اراکین کو مختلف خدمات فراہم کرتی تھی جن میں مہارت پیدا کرنے اور صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھیل اور ثقافتی تربیت شامل ہیں۔ یہ ایک محفوظ پناہ گاہ اور ایک ایسے محلے میں ثقافتی زندگی کا باعث تھی جہاں کمیونٹی سینٹرز نہیں تھے۔"
عودہ نے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے صرف ایک عمارت کو نہیں بلکہ "ہماری یادوں، خوابوں اور محنت کو تباہ کر دیا۔"
ایسوسی ایشن میں سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے فرانس نے انہدام کے بعد اسرائیل سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔
پندرہ سالہ کندا براکا ان لوگوں میں شامل تھیں جو اکثر اس انجمن میں آتے تھے۔
انہوں نے کہا، "یہ ہماری محفوظ جگہ تھی۔ جب یہ تباہ ہوئی تو میں بہت روئی۔ ایسا لگا کہ وہ آ کر برابر میں میرا گھر گرا سکتے ہیں۔"
براکا نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مسماری کا مقصد فلسطینیوں کو پرے دھکیل کر آباد کاروں کے حق میں جگہ بنانا ہے۔
رویدی کے الفاظ میں بھی انہی خدشات کی بازگشت تھی لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا، "ہم سلوان نہیں چھوڑیں گے۔ سلوان کے باہر ہم سانس ہی نہیں لے سکتے۔"