فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اور دو دیگر مزاحمتی گروپوں کے مذاکراتی عمل سے جڑے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی نئی شرط یا تجویز پیش نہ کر دی تو اسرائیل کے ساتھ حالیہ مذاکرات جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
ان ذرائع کے مطابق اس جنگ بندی معاہدے میں اسرائیلی و فلسطینی قیدیوں کی تبادلے میں رہائی کا امکان غالب ہے۔
اہم بات ہے کہ حماس ، اسلامی جہاد گروپ اور پاپولر فرنٹ نے قاہرہ میں جاری جنگ بندی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ عام طور پر ان گروپوں کی طرف سے ایسا بیان جاری نہیں کیا جا تا ہے۔ مگر اس بار ایسا کیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ بیان جمعہ کے روز جاری کیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے بالواسطہ مذاکرات کا ایک سیشن دوحا میں ہوا تھا۔ دوحا میں امریکہ، قطر اور مصر کے حکام نے حصہ لیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام نے بھی قطر میں ملاقاتیں کی تھیں۔
حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز ' اے ایف پی ' کو بتایا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران کافی پیش رفت ہوگئی ہے۔ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا ہے جن میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے والے نکات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا جو چند نکات ابھی اتفاق طلب ہیں۔ وہ مجموعی مذاکراتی عمل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے نہیں ہیں۔ امکانی طور پر یہ بھی ماہ دسمبر کے اندر اندر فائنل ہو جائیں گے اور جنگ بندی معاہدہ طے پا جائے گا۔
حماس رہنما نے اس سلسلے میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا مگر ضروری ہوگا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک بار پھر کسی نئی تجویز کی صورت اس معاملے کو روکنے کا باعث نہ بن جائیں۔