شام کی نئی حکومت کی فوج نے طرطوس میں گذشتہ روز ہونے والی شدید جھڑپ اور سرکاری سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد ایک باضابطہ فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
آپریشن کا آغاز جمعرات کے روز سے کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا فیصلہ بشارالاسد رجیم کے دور کی بدنام زمانہ جیل صیدنایا کے افسر کی طرطوس صوبے سے گرفتاری کے دوران پیش انے والی سخت مزاحمت اور حکومتی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد کیا گیا ہے۔
خیال رہے جس علاقے میں گرفتاری کرنے والی سرکاری سیکیورٹی ٹیم کو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ علویت اقلیت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔تاہم ابھی اپریشن کی تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ بشارالاسد کے سب سے کٹر حامیوں کا علاقہ ہے۔