اسرائیلی افواج نے محصور شمالی غزہ کے قصبے سے نئے انخلاء کا حکم دے دیا: رہائشی

طبی مراکز پر حملے، کئی ہلاک اور زخمی، کمال عدوان ہسپتال بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بیت حانون کے رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ میں ہفتوں سے جاری جارحیت کے دوران باقی ماندہ تمام باشندوں کو اتوار کے روز قصبے سے نکل جانے کا حکم دیا۔ فوج نے اس کی یہ وجہ بتائی کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اس علاقے سے راکٹ داغے۔

رہائشیوں نے بتایا کہ انخلاء کی ہدایت سے نقلِ مکانی کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے حالانکہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے لوگ اس سے متاثر ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی عام شہریوں کو انخلاء کی ہدایات کا مقصد انہیں نقصان سے دور رکھنا ہے۔

فلسطینی اور اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں اور انخلاء سے آبادی کے انسانی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

بیت حانون، جبالیا اور بیت لاہیا کے شمالی قصبات کے اردگرد کا زیادہ تر علاقہ لوگوں سے خالی کر کے مسمار کر دیا گیا ہے جس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل غزہ میں لڑائی ختم ہو جانے کے بعد اس علاقے کو بند بفر زون کے طور پر رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بیت حنون کے علاقے میں اپنے نئی کارروائی کا اعلان کیا۔ فوج نے کہا کہ یہاں شدید کارروائی کے باوجود اتوار کے روز اسرائیل میں راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رہا۔

فلسطینی سول ایمرجنسی سروس نے کہا کہ قصبے میں بدستور پھنسے لوگوں سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور وہ چھاپے کی وجہ سے علاقے میں ٹیمیں بھیجنے سے قاصر تھی۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے حملے میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔ فلسطینی سول ایمرجنسی سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ان میں سے ایک حملے میں غزہ شہر کے الوفا ہسپتال میں سات افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔

طبی ماہرین نے بتایا کہ بعد ازاں اتوار کو بیت حنون میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ہسپتال

صحت کے حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز اسرائیلی ٹینک کا گولہ غزہ شہر کے الاہلی عرب بیپٹسٹ ہسپتال کی بالائی منزل پر ایکسرے ڈویژن کے قریب گرا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں حماس کے "فضائی دفاعی یونٹ" کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا جو احاطے سے کارروائی کرتے تھے اور کہا کہ یہ جگہ اب مزید ہسپتال کے طور پر کام نہیں کرتی۔ فوج نے کہا کہ عسکریت پسند آئندہ دنوں میں جلد ہی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی انجام دہی کے لیے اس احاطے کا استعمال کر رہے تھے۔

جمعہ کے روز اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال پر حملہ اور دراندازی کی جس میں طبی ماہرین سمیت 240 سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔

فوج نے کہا کہ ہسپتال حماس کے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اتوار کو مزید کہا کہ زیرِ حراست افراد میں سے 15 نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا تھا اور یہ کہ وہاں اس کی کارروائی میں تقریباً 20 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

حماس نے اسرائیل کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے مزاحمت کار ہسپتالوں سے کام کرتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو غزہ کے طبی مزاکز میں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ غزہ کے شمالی کنارے پر واقع تین طبی مراکز میں سے ایک کمال عدوان ہسپتال پر چھاپے سے علاقے کی آخری بڑی صحت کی سہولت بند ہو گئی۔

انکلیو میں صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں 45,300 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں