بیروت کے رفیق حریری ہوائی اڈے پر لبنانی سیکورٹی حکام نے ایران کے ایک شہری طیارے کی تلاشی لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ مذکورہ ہوائی اڈے کے ذریعے لبنانی تنظیم حزب اللہ کو مالی رقوم کی اسمگلنگ کی خبریں ملنے کے بعد سامنے آیا۔
العربیہ نیوز کی نامہ نگار نے جمعے کے روز بتایا کہ اس موقع پر بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے ایک ملازم نے اپنے پاس موجود سفارتی بیگ کی تلاشی دینے سے انکار کر دیا۔
نامہ نگار کے مطابق ہوائی اڈے کے سیکورٹی حکام نے ایرانی طیارے اور اس پر سوار تمام مسافروں کے سامان کی تلاشی لی۔ یہ ایک ہفتے کے دوران اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔
لبنانی سیکورٹی رائع نے ایران کو آگاہ کر دیا کہ تلاشی کے دوران میں سامنے آنے والی کوئی بھی مشتبہ کھیپ ضبط کر لی جائے گی۔
بعد ازاں لبنانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اسے ایرانی سفارت خانے کی جانب سے تحریری وضاحت موصول ہو گئی۔ اس میں جمعرات کے روز ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کی پرواز میں سوار ایرانی سفارت کار کے پاس دو چھوٹے بیگوں کی اشیاء کے بارے میں بتایا دیا گیا۔
سفارت خانے نے واضح کیا کہ ان دونوں بیگوں میں دستاویزات، کاغذات، نقدی نوٹ موجود ہیں۔ یہ رقم باکار اخراجات پورے کرنے اور صرف سفارت خانے کے استعمال کے لیے ہے۔ لبنانی وزارت خارجہ کے مطابق اس وضاحت کے بعد دونوں بیگوں کو ملک میں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
اس سے قبل جمعرات کو مغربی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے ماہان ایئر کے ذریعے کروڑوں ڈالر کی رقم حزب اللہ تک منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
اکتوبر 2024 سے لبنانی فوج کو بیروت کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت کی نگرانی اور ہوائی اڈے پر تلاشی کی کارروائیوں کا ذمے دار بنایا دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حزب اللہ کے مخالف کئی لبنانی سیاست دان کئی بار الزام عائد کر چکے ہیں کہ تنظیم نے اس اہم ہوائی اڈے اور ملک میں دیگر گزر گاہوں کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔ اس کا مقصد ایران سے ہتھیاروں کے علاوہ مالی رقوم کی اسمگلنگ ہے۔