لبنان اور شام کے درمیان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں گذشتہ دو روز کے دوران میں خاموشی نظر آئی ہے تاہم علاقے میں ابھی تک کشیدگی کا راج ہے۔ یہ جھڑپیں لبنانی فوج اور شامی مسلح عناصر کے درمیان ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق لبنان کے مشرق میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے "معربون - بعلبک" میں لبنانی فوج اور شامی مسلح عناصر کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس سے قبل یہاں لبنانی فوج کے ایک یونٹ کو درمیانے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار فوجی معمولی زخمی ہو گئے۔
اسی طرح مشرقی سرحد کے نزدیک سرغایا کے علاقے میں بھی لبنانی فوج اور مسلح شامیوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
ادھر لبنانی فوج کے سیکورٹی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فوج کی کمان مسلح افراد کی شناخت نہیں جان سکی کہ آیا وہ "تحریر الشام" تنظیم سے تعلق رکھتے تھے یا دیگر گروپوں سے جب کہ لبنانی فوج اور نئی شامی اتھارٹی کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔
مذکورہ ذریعے نے واضح کیا کہ فریقین کے درمیان رابطہ منقطع ہونے کا سبب یہ ہے کہ شام میں نئی اتھارٹی نے ابھی تک اپنے معاملات منظم نہیں کیے ہیں، اس کی وجہ سے لبنانی فوج کے لیے امور زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں کہ وہ رابطہ کاری کے لیے کوئی سرکاری فریق کو کہاں تلاش کرے۔
لبنانی شہریوں کے داخلے پر پابندی
شام کے لیے لبنانیوں کے سفر پر پابندی کے فیصلے کے حوالے سے لبنان کی جنرل سیکورٹی کے ایک ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس حیران کن فیصلے کے پیچھے موجود وجوہات بتائیں۔
ذریعے کے مطابق اس کی وجہ لبنان شام سرحد پر لبنانی انٹیلی جنس کے مرکز میں ایک مسلح جماعت سے تعلق رکھنے والے دو ارکان کی حراست اور ان سے تحقیقات ہے۔ ان دونوں افراد نے لبنانی اراضی میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ان کے قبضے میں ہتھیار تھے۔ بعد ازاں عدالتی فیصلے کے ذریعے ان دونوں کو کئی گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد لبنانی جنرل سیکورٹی کے ادارے کو یہ اطلاع ملی کہ شام کی جنرل سیکورٹی نے لبنانیوں کے شامی اراضی میں داخل ہونے کی نئی شرائط وضع کی ہیں۔
عارضی اقدامات
ادھر لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے جمعے کی شام العربیہ نیوز چینل سے خصوصی گفتگو میں واضح کیا کہ شام میں لبنانیوں کے داخلے پر قیود لگانے کا فیصلہ محض ایک "صورت حال کی بنیاد پر ایک عارضی" تدبیر ہے۔
مولوی نے زور دے کر کہا کہ لبنانی سیکورٹی فورسز کسی شامی کو حراست میں لیتی ہیں ما سوا یہ کہ وہ لبنان میں مطلوب ہو یا اس کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ جاری ہو چکا ہو۔
سرحد پر جھڑپوں کے حوالے سے بسام مولوی نے واضح کیا کہ لبنانی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث مسلح گروپ نئی شامی انتظامیہ کے پیروکار نہیں۔
دوسری جانب شام کی نئی سیاسی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع (تحریر الشام تنظیم کے سربراہ) نے باور کرایا ہے کہ متعلقہ اداروں نے سرحد پر حالات دوبارہ سے پر سکون بنانے کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کیے تا کہ جو کچھ ہوا وہ دوبارہ واقع نہ ہو۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ سرحد پر کئی غیر قانونی گزر گاہیں موجود ہیں جو کئی برسوں تک سامان اور ہتھیاروں کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے راستوں کا کام کرتی رہیں۔
-
شام میں قومی مکالمہ کانفرنس کے دعوت نامے ابھی تک نہیں بھیجے گئے
شامی عوام اور عالمی برادری کی نظریں اس وقت شام کے حوالے سے تاریخی 'قومی مکالمہ ...
مشرق وسطی -
لبنانی وزیر اعظم اور شام کی عبوری انتظامیہ کے قائد کے درمیان رابطہ
شام میں کابینہ کے ایک اعلان کے مطابق لبنانی عبوری وزیر اعظم نجیب میقاتی اور شام ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا شام کے لیے زمینی امدادی پُل بھی شروع کرنے کا اعلان
شامی عوام کی مدد کے لیے سعودی عرب کے کنگ سلمان سنٹر کی جانب سے فضائی امدادی پُل کے ...
مشرق وسطی