لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی 27 ستمبر2024 کو بیروت میں واقع حزب اللہ ہیڈ کوارٹرز میں بمباری کے دوران ہلاکت کے بارے مزید اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حزب اللہ کے ایک سینیئر رہنما نے اطلاع دی ہے کہ جب حسن نصراللہ کی اسرائیلی بمباری کے دوران ہلاکت ہوئی تو وہ حزب اللہ کے آپریشن روم میں موجود تھے۔ سینیئر رہنما نے یہ اطلاع اتوار کے روز دی ہے۔
واضح رہے اسرائیلی فوج نے ماہ ستمبر کی 23 تاریخ سے متواتر انداز میں لبنان کے اندر تک بمباری شروع کر رکھی تھی۔ اس سے پہلے اسرائیل جنوبی لبنان کی سرحد کے علاوہ کبھی کبھار کسی لبنانی علاقے کے اندر تک بمباری کر رہا تھا۔
تاہم 23 ستمبر 2024 کو اسرائیل کی لبنان پر بمباری کا یہ سلسلہ شدید تر اور تواتر کے ساتھ ہونے لگا۔ اسی دوران اسرائیل کی طرف سے لبنان میں پیجر اور واکی ٹاکی حملے کیے گئے تھے۔
حزب اللہ کے سینیئر رہنما کے مطابق حسن نصراللہ اور حزب اللہ کی سینیئر قیادت کے اہم ارکان ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس میں جمع تھے کہ بمباری شروع ہو گئی۔ یہ اجلاس ہیڈ کوارٹر کے تہہ خانے میں جاری تھا۔ جہاں لبنانی وزارت صحت اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 6 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
حسن نصراللہ نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کی قیادت 32 سال تک کی تھی اور بانی حزب اللہ کے بعد وہ سب سے زیادہ موثر قائد کے طور پر موجود رہے۔
حزب اللہ کے سیکیورٹی کے اہم ذمہ دار وافق صفا کے مطابق حسن نصراللہ کو اسی آپریشن روم سے جنگ کو چلا رہے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری روز بھی اسی آپریشن روم میں تھے۔ تاہم وافق صفا نے اس واقعے کی مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔
لبنانی میڈیا کے مطابق جنگ بندی سے پہلے اسرائیل فوج نے حزب اللہ کے اس سینیئر رہنما وافق صفا کو بھی قتل کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھی ۔ لیکن اسرائیلی فوج کامیاب نہ ہو سکی۔
اب جبکہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان 27 نومبر 2024 سے جنگ بندی ہو چکی ہے۔ مگر دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بہت زیادہ کی گئی ہیں۔
ہفتے کے روز حزب اللہ کے موجود رہنما قاسم نعیم نے ایک ٹی وی خطاب کے دوران کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج نے لبنانی سرزمین نہ چھوڑی تو اس پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج سے معاہدے پر ض جلد امریکی خصوصی نمائندہ آموس ہو چیسٹین سے ملیں گے تاکہ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی جاری خلاف ورزیوں کی براہ راست بھی نشاندہی کرسکیں۔