غزہ میں اسرائیلی جنگ رکوانے کے لیے اہم ترین ثالث ملک قطر نے کہا ہے کہ امکانی جنگ بندی کو مضبوط کرنے کے لیے تکنیکی نوعیت کے اجلاس جاری ہیں۔ جس میں دونوں فریق اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ قطر کی طرف سے یہ بات قطری وزارت خارجہ نے منگل کے روز بتائی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے کہا 'ٹیکنیکل نوعیت کے اجلاس دونوں فریقوں کے درمیان ابھی جاری ہیں۔ ان اجلاسوں میں دونوں طرف کے مقابلتاً جونیئر حکام حصہ لے رہے ہیں تاکہ معاہدے کی تفصیلات و جزئیات طے کی جا سکیں۔
ایک سوال کے جواب میں قطر کے ترجمان نے کہا 'اس وقت کوئی ایسا بڑا اجلاس جنگ بندی معاہدے کے لیے نہیں ہو رہا ہے۔ ماسوائے تکنیکی نوعیت کی میٹنگز کے۔'
یاد رہے قطر اور مصر کے علاوہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی اور اسلحہ سپلائر امریکہ بھی اہم ثالث ملک کے طور پر موجود ہے۔ جنگ بندی کے لیے یہ مذاکرات وقفے وقفے سے پچھلے کئی ماہ سے جاری ہیں۔ تاہم فریقین بظاہر ابھی تک کسی کامیابی تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
قطری ترجمان نے کہا 'ایسے بےشمار امور تھے جو ابھی زیر بحث ہیں اور انہی کے بارے میں میٹنگز ہو رہی ہیں۔' تاہم انہوں نے ان امور کی نشاندہی کرنے یا ان کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا 'ان تفصیلات میں اس لیے جانا مناسب نہیں ہے کہ اس سے جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔'
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ دوحا میں بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ از سر نو شروع ہو چکا ہے۔ اس بارے میں اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے مذاکرات کاروں کو قطری دارالحکومت دوحا میں مذاکرات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔
اس سے پہلے مذاکرات کا ایک دور دسمبر کے اواخر میں بھی ہو چکا ہے۔ جس میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا۔
حماس کا مؤقف تھا کہ اسرائیل مذاکرات کی کامیابی کے قریب پہنچنے کے بعد بار بار نئی تجاویز لے آتا ہے۔ جس سے مذاکرات آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
ادھر قطر کی طرف سے پرامیدی ظاہر کی گئی تھی کہ مذاکرات جلد جنگ بندی تک پہنچ جائیں گے۔ اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ سے صدر منتخب ہو کر وائٹ ہاؤس آنے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔
دسمبر سے ایک ماہ پہلے قطر نے مذاکرات کو یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ اسرائیل اور حماس اپنی طرف سے جنگ بندی کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کریں۔